مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت پر اپنے فیصلے میں بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا اقدام ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام محدود کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا۔ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر …
مستقل ثالثی عدالت نے بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام محدود کرنے اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت پر اپنے فیصلے میں بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا اقدام ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام محدود کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا۔ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔دی ہیگ میں قائم پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن ( مستقل ثالثی عدالت) نے پیر کو بھارت کے جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے فیصلے کے تناظر میں سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اورپاکستان کی جانب سے 4 مارچ 2026 کو دائر کی گئی درخواست پر عبوری اقدامات سے متعلق حکم پر فیصلہ سنایا۔
یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل IX اور ضمیمہ جی کے تحت شروع کی گئی مغربی دریاؤں سے متعلق ثالثی کارروائی کے تحت کی گئی۔ان کارروائیوں میں پاکستان نے ثالثی عدالت سے درخواست کی کہ وہ دریائے سندھ، دریائے جہلم اور دریائے چناب اور ان کے معاون دریاؤں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے بعض اجزا کے ڈیزائن سے متعلق معاملات کا جائزہ لے جہاں یہ دریا پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے بھارت میں بہتے ہیں۔یہ کارروائی سندھ طاس معاہدے کی عمومی طور پر تشریح اور اطلاق سے متعلق ہے جبکہ اس میں بھارت کے دو مخصوص منصوبے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور رَتل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ بھی شامل ہیں۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کے فیصلے کے تناظر میں معاہدے کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لیا۔
عدالت نے بھارت کے فیصلے کے مفہوم کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ صرف اس دعوے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یا تو معطل ہے یا ختم کر دیا گیا ہے۔متفقہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی بنیاد سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی، چنانچہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کا پابند ہے جن میں مغربی دریاؤں پر اپنے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔عبوری اقدامات کے حکم میں عدالت نے رَتل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ پر تعمیراتی کاموں کو محدود کرنے کے لیے پاکستان کی درخواست کا جائزہ لیا۔
یہ اقدامات غیرجانبدار ماہر کے اس فیصلے تک عائد کیے جانے کی درخواست کی گئی تھی کہ آیا رتل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کا ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔متفقہ فیصلے میں عدالت نے بھارت کو حکم دیا کہ وہ غیرجانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ نہ کرے، غیرجانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔عدالت نے رَتل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کا ایک اقدام بھی عائد کیا جو غیرجانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے فوراً بعد تک نافذ رہے گا۔عدالت نے نوٹ کیا کہ بھارت نے بارہا مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اس کا فیصلہ اس کی ’’خودمختاری‘‘ کی بنیاد پر جائز ہے،تاہم عدالت نے قرار دیا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو کسی ریاست کو اپنی ’’خودمختاری‘‘ کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر کسی معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کی اجازت دیتا ہو۔
تمام ریاستیں، بشمول بھارت، اپنے معاہدوں کی پابند ہیں اور انہیں پورا کرنا ضروری ہے۔ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق مستقل ثالثی عدالت ان کارروائیوں کے لیے سیکریٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پیس پیلس میں قائم مستقل ثالثی عدالت ریاستوں، ریاستی اداروں، بین الحکومتی تنظیموں اور نجی فریقین کے درمیان ثالثی، مفاہمت، حقائق معلوم کرنے اور تنازعات کے حل کی دیگر کارروائیوں میں سہولت فراہم کرتی ہے۔








