قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی 150ویں سالگرہ،مغلیہ سلطنت کی 500ویں سالگرہ، تقریبات کو قومی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنایا جائے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی 150ویں سالگرہ اور مغلیہ سلطنت کے قیام کی 500ویں سالگرہ کی تقریبات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی ہےکہ ان تاریخی مواقع کی تقریبات کو محض رسمی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے نئی نسل میں قومی شعور، فکری بیداری، احساس ذمہ داری اور …

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی 150ویں سالگرہ اور مغلیہ سلطنت کے قیام کی 500ویں سالگرہ کی تقریبات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی ہےکہ ان تاریخی مواقع کی تقریبات کو محض رسمی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے نئی نسل میں قومی شعور، فکری بیداری، احساس ذمہ داری اور اپنی تاریخ و تہذیب سے وابستگی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ستمبر سے دسمبر تک ملک بھر کے سکولز، کالجز اور تعلیمی اداروں میں قائداعظمؒ کی 150ویں سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں۔ اس سلسلے میں مضمون نویسی، تقاریر، بین المدارس و بین التعلیمی اداروں کے مقابلے، پینٹنگز اور قائداعظمؒ کے فرمودات کی بنیاد پر دیگر تخلیقی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ تقریبات کا انعقاد عالمی معیار کے مطابق ہو اور دنیا کے نامور دانشوروں، مورخین، ماہرینِ تعلیم اور محققین کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکر، تحریک پاکستان کی جدوجہد اور برصغیر کے تہذیبی و تاریخی ورثے کو عالمی علمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قائداعظمؒ نے اپنی زندگی دائو پر لگا کر مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔ قائداعظمؒ کی بیماری کو راز میں رکھنے والے ان کے معالجین نے بھی قیام پاکستان کے نازک مرحلے میں فرض شناسی اور دیانت کی بے مثال مثال قائم کی۔ 1946ء میں قائداعظمؒ کو تپ دق کی تشخیص کے بعد ڈاکٹر جال رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جال ڈائیبو نے ان کی ہدایت پر اس راز کو محفوظ رکھا۔ بعد ازاں لارڈ مائونٹ بیٹن نے تسلیم کیا کہ اگر اسے قائداعظمؒ کی بیماری کا علم ہوتا تو وہ تقسیمِ ہند کا عمل موخر کر دیتا۔ آج ہمارے نوجوانوں میں یہ شعور اور احساس ہونا چاہیے کہ کس طرح اپنی صحت کی قربانی دے کر قائداعظمؒ نے ہمارے لیے ایک آزاد وطن کے حصول کو ممکن بنایا، آج یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ مل کر پاکستان کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور تعمیرِ نو میں اپنا کردار ادا کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مغلیہ سلطنت نے برصغیر پر ساڑھے تین سو سال حکمرانی کی اور 2026ء میں اس کے قیام کو 500 سال مکمل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ مغلیہ دور کی تاریخ کو محض حکمرانوں اور جنگوں کے تناظر میں نہیں بلکہ مقامی ثقافت، انتظامی نظام، طرز حکمرانی، محصولات کے نظام، فنون، فنِ تعمیر اور تہذیبی ورثے کے حوالے سے بھی اجاگر کیا جائے۔ ہمیں مغلیہ دور کے ان روشن پہلوئوں کو نمایاں کرنا ہے جن کے ذریعے اس مسلم سلطنت نے خطے میں کامیاب حکمرانی کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس دور کے مختلف پہلوئوں پر ایک جامع دستاویزی فلم تیار کی جائے جس میں مغلیہ دور میں برصغیر کے فنِ تعمیر کے نئے تصورات، آرٹ اور آرکیٹیکچر کے میدان میں مغلیہ دور کی خدمات، طرزِ حکمرانی اور تاریخی و تہذیبی ورثے کو نمایاں طور پر پیش کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافتی ورثے سے آگاہ ہو سکے۔

وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ وزارتوں، محکموں اور اداروں کو ہدایت کی کہ ان تقریبات اور سرگرمیوں پر اپنے اپنے دائرہ کار میں موثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ مغلیہ سلطنت کے قیام کی روایتی طور پر مستند تاریخ 21 اپریل 1526ء تسلیم کی جاتی ہے، جب ظہیر الدین محمد بابر نے پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دی۔ یہ جنگ برصغیر میں مغلیہ حکمرانی کے آغاز کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ سال 2026ء مغلیہ سلطنت کے قیام کی 500ویں سالگرہ کا سال ہے۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ 25 دسمبر 1876ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کی تاریخی جدوجہد کامیابی سے مکمل کی۔

شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی فکر اور فلسفے نے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی، قومی تشخص اور ایک الگ سیاسی مستقبل کے تصور کو فکری بنیاد فراہم کی۔ سال 2026ء اور 2027ء میں ان عظیم شخصیات کی پیدائش کے 150 سال مکمل ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں اس موقع کو روایتی تقریبات سے ہٹ کر اپنے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو عالمی سطح پر ایک کامیاب دور کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہماری نسل اپنے تاریخی ورثے سے آگاہ رہے۔اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات، پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان، وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔