مجوزہ قومی معیاری ای فائلنگ نظام کی تیاری اور کامیاب نفاذ میں بار بنیادی شراکت دار ہے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ مجوزہ قومی معیاری ای فائلنگ نظام کی تیاری اور کامیاب نفاذ میں بار بنیادی شراکت دار ہے، اس لیے نظام کو وکلا اور سائلین کی عملی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی اور آسان بنایا جائے گا۔

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ مجوزہ قومی معیاری ای فائلنگ نظام کی تیاری اور کامیاب نفاذ میں بار بنیادی شراکت دار ہے، اس لیے نظام کو وکلا اور سائلین کی عملی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی اور آسان بنایا جائے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس سے سپریم کورٹ کوئٹہ برانچ رجسٹری میں بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کی سربراہی میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل وفد نے اہم اور تعمیری ملاقات کی۔ملاقات قومی سطح پر یکساں اور معیاری ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری کے لیے جاری مشاورتی عمل کا حصہ تھی، جس کا آغاز چیف جسٹس کی جانب سے رواں ماہ کیا گیا تھا۔

مجوزہ نظام سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے لیے یکساں طریقہ کار فراہم کرے گا۔شرکاء کو مجوزہ قومی معیاری ای فائلنگ نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ یہ نظام عدالتی کارروائیوں سے متعلق قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ، منظم، ذہین اور قواعد کے مطابق پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدام عدالتی اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی عمل کو جدید بنانا، کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ، مقدمات کے عمل میں پیش گوئی کو بہتر بنانا اور سائلین و وکلا کے لیے انصاف تک رسائی کو مزید آسان اور مؤثر بنانا ہے۔چیف جسٹس نے اس امر پر زور دیا کہ بار مجوزہ نظام کا بنیادی صارف ہونے کے ناطے یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کی تیاری اور تمام عدالتی سطحوں پر ان کے کامیاب نفاذ میں اہم شراکت دار ہے۔

انہوں نے وفد پر زور دیا کہ نظام کو قابلِ رسائی، صارف دوست اور عملی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی قیمتی تجاویز پیش کرے۔بلوچستان بار کونسل کے وفد نے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا نظام وکلا اور سائلین کے لیے آسان فائلنگ، مؤثر کیس ٹریکنگ اور متحدہ الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ کی سہولت فراہم کرے گا۔ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز، ہر صوبائی بار کونسل کی جانب سے نامزد دو ارکان اور اسلام آباد بار کونسل کی جانب سے نامزد دو ارکان پر مشتمل کمیٹی معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔حتمی شکل دیے جانے کے بعد ای فائلنگ ٹیمپلیٹس نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے سامنے غور اور پالیسی ہدایات کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

 

مزید خبریں