گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پیر کے روز ایبٹ آباد پریس کلب اور ہزارہ قومی محاذ کے وفد نے ملاقات کی۔گورنر ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق وفد میں ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر سردار نوید عالم، سابق صدر سردار شفیق احمد، ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر عاطف قیوم اور ہزارہ قومی محاذ پاکستان کے وائس چیئرمین اسد جاوید خان شامل تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا سے ایبٹ آباد پریس کلب کے وفد کی ملاقات، نئے صوبوں کے قیام،گیس لوڈشیڈنگ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال
پشاور۔ 31 اگست (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پیر کے روز ایبٹ آباد پریس کلب اور ہزارہ قومی محاذ کے وفد نے ملاقات کی۔گورنر ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق وفد میں ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر سردار نوید عالم، سابق صدر سردار شفیق احمد، ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر عاطف قیوم اور ہزارہ قومی محاذ پاکستان کے وائس چیئرمین اسد جاوید خان شامل تھے۔ملاقات میں ہزارہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں کو درپیش مسائل، گیس لوڈشیڈنگ، سی این جی بحران، قدرتی وسائل پر صوبے کے حقوق اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے پارلیمنٹ بناتی ہے، اس لیے نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم اور حساس معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ صوبے محض خواہشات کی بنیاد پر نہیں بنتے بلکہ اس کے لیے زمینی حقائق، انتظامی ضروریات، معاشی استحکام، وسائل اور عوامی مفاد سمیت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے یا یونٹس تشکیل دئیے جاتے ہیں، تاہم ایسے فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر اور نیک نیتی کے جذبے کے تحت ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کے بعد اس کے وسائل، آمدن اور انتظامی ضروریات کیسے پوری ہوں گی، اس سوال کا جواب بھی ضروری ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم اس وقت گندم، گیس کی رائلٹی اور اپنے دیگر وسائل کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ایسے میں نئے صوبے کے قیام کی صورت میں وسائل اور آمدن کے ذرائع کا بھی واضح تعین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا اور اب دوبارہ انضمام ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، ایسے معاملات پر سنجیدہ اور جامع غور کی ضرورت ہے۔
گورنر نے کہا کہ گیس لوڈشیڈنگ اور سی این جی کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت سے بات کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے ہمیں وفاق کے ساتھ متحد ہوکر مؤثر انداز میں بات کرنی ہوگی تاکہ صوبے کے عوام کے حقوق اور بنیادی مسائل کا حل یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مسائل کے حل، قدرتی وسائل پر جائز حقوق اور صوبے کی ترقی کے لیے تمام سیاسی و سماجی حلقوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔








