پنشنرز کی ڈیجیٹل تصدیق، ریڈیو پاکستان نادرا کی ایپ سے منسلک ہونے والا پہلا سرکاری ملکیتی ادارہ بن گیا

ریڈیو پاکستان (پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن) پنشنرز کی ڈیجیٹل تصدیق کے لیے نادرا کی ایپ سے منسلک ہونے والی پہلی سرکاری کارپوریشن اور پہلا سرکاری ملکیتی ادارہ (ایس او ای) بن گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے ریڈیو پاکستان کے موجودہ 3681 پنشنرز اب گھر بیٹھے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):ریڈیو پاکستان (پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن) پنشنرز کی ڈیجیٹل تصدیق کے لیے نادرا کی ایپ سے منسلک ہونے والی پہلی سرکاری کارپوریشن اور پہلا سرکاری ملکیتی ادارہ (ایس او ای) بن گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے ریڈیو پاکستان کے موجودہ 3681 پنشنرز اب گھر بیٹھے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کر سکتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے اس سے قبل 2025ء میں اپنے پنشن مینجمنٹ سسٹم کوڈیجیٹائز کیا تھا ۔ اس ڈیجیٹائزیشن نے نہ صرف کارپوریشن کے مینوئل سسٹم کے اندر چھپے گھوسٹ پنشنرز کو باہر نکالنے میں معاونت کی بلکہ یہ پنشن ڈیٹا کو محض ایک کلک کی دوری تک محدود کرنے میں بھی مددگار بنا ہے ۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پنشن نظام کی یہ ڈیجیٹلائزیشن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی سرپرستی اور نگرانی میں کی گئی۔ پی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد شیخ نے ادارے کی اپنی آئی ٹی ٹیم کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ مکمل کیا۔ اس اقدام میں پی بی سی کی اپنی تکنیکی مہارت استعمال کرتے ہوئے پنشن کے انتظامی امور کو جدید بنایا گیا اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے طریقہ کار آسان کیا گیا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 20 اگست 2026ء کو اسلام آباد میں نادرا کے قومی ’’پروف آف لائف‘‘ یعنی تصدیق حیات کے نظام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیومیٹرک اور چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی سہولت کو ’’انسانیت کی خدمت‘‘ قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس ڈیجیٹل نظام اور ایپ سے ملک بھر کے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے۔پی بی سی نے چند ماہ قبل ہی اپنے نظام کو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے نظام سے منسلک کر لیا تھا۔ اس پیشگی رابطہ کاری کے باعث ایپ کے فعال ہوتے ہی ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو تصدیق کی نئی سہولت تک رسائی حاصل ہو گئی۔ایپ فعال ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان کے پنشنرز گھر بیٹھے تصدیق کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں جس سے انہیں اس مقصد کے لیے معمول کے مطابق بینکوں یا سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔

مزید خبریں