موسمیاتی نقصانات: کسان خواتین کیلئےقرض، انشورنس اور سولر فنانسنگ سمیت خصوصی مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے کی تجویز

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا بڑھتا ہوا خطرہ خواتین کسانوں کےلئے صرف فصلوں اور آمدنی کا نقصان نہیں بلکہ مالی بحران بھی بن رہا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر دس میں سے نو خواتین کسانوں کو شدید گرمی، سیلاب، غیر معمولی بارش یا خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 80 فیصد سے زیادہ نے فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔ م

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا بڑھتا ہوا خطرہ خواتین کسانوں کےلئے صرف فصلوں اور آمدنی کا نقصان نہیں بلکہ مالی بحران بھی بن رہا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر دس میں سے نو خواتین کسانوں کو شدید گرمی، سیلاب، غیر معمولی بارش یا خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 80 فیصد سے زیادہ نے فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔ موسمیاتی نقصانات پورے کرنے کےلئے بہت سی خواتین قرض لینے اور مویشی فروخت کرنے پر مجبور ہیں مگر دوسری جانب رسمی مالیاتی سہولتوں تک ان کی رسائی انتہائی محدود ہے جس نے خواتین کسانوں کےلئے مخصوص اور موسمیاتی خطرات سے ہم آہنگ مالیاتی سہولتوں کی فوری ضرورت کو نمایاں کردیا ہے۔ یہ باتیں موبی لنک بینک اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) کی ’’صنفی تقاضوں سے ہم آہنگ موسمیاتی مالیات کی تشکیل: پاکستان میں خواتین کسانوں کے لئے ایک تشخیصی مطالعہ اور مالیاتی مصنوعات کا فریم ورک‘‘ کے عنوان سے مشترکہ تحقیق میں کہی گئی ہیں۔

یہ تحقیق پنجاب اور سندھ کے آٹھ اضلاع میں کئے گئے میدانی مطالعے پر مبنی ہے۔تحقیق کے مطابق موسمیاتی نقصانات سے نمٹنے کے لئے قرض لینا خواتین کسانوں کی عام حکمت عملی بن چکا ہے۔ خوشاب میں بحران سے نمٹنے والی تمام خواتین نے قرض لیا جبکہ نصف سے زیادہ نے مویشی بھی فروخت کئے تاہم مویشیوں کی فروخت سے فوری ضرورت پوری ہونے کے باوجود مستقبل کی آمدنی کا ذریعہ کم ہوجاتا ہے۔تحقیق میں خواتین کی زمین اور مالیاتی سہولتوں تک محدود رسائی کو بھی بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ صرف تقریباً 2 فیصد کبھی شادی شدہ خواتین زمین کی اکیلے یا مشترکہ طور پر مالک ہیں جبکہ 97.2 فیصد خواتین کو زمین یا مکان وراثت میں نہیں ملا۔ مالیاتی شمولیت میں بھی نمایاں صنفی فرق ہے، 56 فیصد مردوں کے مقابلے میں صرف 14 فیصد خواتین کے پاس مکمل مالیاتی اکائونٹ ہے جبکہ موبائل والٹ رکھنے والی خواتین کی شرح صرف 11 فیصد ہے۔

تحقیق کے نتائج اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران پیش کئے گئے جس میں حکومتی نمائندوں، بینکوں، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ خواتین کسانوں کو ملکی معیشت اور زراعت میں ان کے حقیقی کردار کے مطابق ایک باقاعدہ معاشی قوت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ خواتین کی ضروریات کے مطابق ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو قرض، ضمانت اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں حائل رکاوٹیں کم کرسکیں۔موبی لنک بینک کی ہیڈ آف سٹریٹیجی، سسٹین ایبلٹی اینڈ ویمن فنانشل سروسز خولہ شعیب نے بتایا کہ زراعت بینک کے مجموعی قرضی پورٹ فولیو کا تقریباً 60 فیصد ہے جبکہ خواتین کا حصہ 21 فیصد سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق نے خواتین کسانوں کو درپیش مالی اور موسمیاتی مشکلات کو سمجھنے اور ان کےلئے نئی مالیاتی مصنوعات تیار کرنے میں اہم رہنمائی فراہم کی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ تحقیق میں موسمیاتی مالیات کو خاص طور پر چھوٹے کسانوں اور خواتین کسانوں کی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے دیہی معیشت، زراعت اور مویشی بانی کو مضبوط بنانے کو ملکی معاشی استحکام کے لئے ضروری قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے خواتین کسانوں کےلئے تین مالیاتی مصنوعات تجویز کیں جن میں 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک دو سالہ زرعی قرض، موسمیاتی نقصانات سے تحفظ کے لئے 3 فیصد انشورنس، گھریلو سولر سسٹم کے لئے مالی سہولت اور زعفران کے کاروبار کےلئے خصوصی قرض شامل ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ قرض براہِ راست خواتین کے نام پر دیا جائے اور مقامی سطح پر خواتین رشتہ افسران کے ذریعے مالیاتی سہولتوں سے متعلق آگاہی اور رابطہ کاری بڑھائی جائے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خواتین کسانوں کو محض قرض فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ ایسا خواتین دوست اور موسمیاتی خطرات سے ہم آہنگ مالیاتی نظام ضروری ہے جو انہیں فصلوں کے نقصانات سے نکلنے، آمدنی برقرار رکھنے اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات کا بہتر مقابلہ کرنے میں مدد دے۔

 

مزید خبریں