انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیراہتمام ’’پاکستان اور آسیان: ہمارا مستقبل مل کر تشکیل دینا‘‘ کے موضوع پر سیمینار

پاکستان میں فلپائن کے سفیر اور آسیان کمیٹی اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہا ہے کہ امن و سلامتی، خوشحالی اور عوام کو بااختیار بنانا آسیان کے مستقبل کا بنیادی مرکز ہے، آسیان کے تین ستون ’’سیاسی و سلامتی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی تعاون‘‘ پاکستان اور آسیان کے بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں بدستور اہم ہیں۔

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں فلپائن کے سفیر اور آسیان کمیٹی اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہا ہے کہ امن و سلامتی، خوشحالی اور عوام کو بااختیار بنانا آسیان کے مستقبل کا بنیادی مرکز ہے، آسیان کے تین ستون ’’سیاسی و سلامتی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی تعاون‘‘ پاکستان اور آسیان کے بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں بدستور اہم ہیں۔ یہ بات انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیراہتمام خصوصی سیمینار ’’پاکستان اور آسیان: ہمارا مستقبل مل کر تشکیل دینا‘‘ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کی جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ تقریب آئی ایس ایس آئی نے وزارت خارجہ اور آسیان کمیٹی کے اشتراک سے آسیان ڈے کی 59ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان قریبی روابط ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے لیے نئے راستے بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں آسیان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے آسیان اور پاکستان کے تعلقات کی مضبوط بنیاد کو اجاگر کیا اور مستقبل میں تعاون کے لیے مکالمے، اقتصادی و تکنیکی تعاون، روابط اور عوام پر مرکوز ترقی کو اہم شعبوں کے طور پر نشاندہی کی۔

پاکستان کو ایک دیرینہ شراکت دار کی حیثیت سے دی جانے والی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر کرنل (ر) پینگیران حاجی کمال باشاہ، ویتنام کے سفیر فام آنہ توان، میانمار کے سفیر وونا ہان، تھائی لینڈ کے سفیر رونگ ودی ویرا بتر، انڈونیشیا کے سفارتخانے کے منسٹر قونصلر رحمت ہندیارٹا کوسوما اور ملائیشیا کے ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری و ڈپٹی ہیڈ آف مشن محمد علی شفیق بن محمد فوادزی نے پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، ڈیجیٹل معیشت و سائبر سکیورٹی، زراعت و غذائی تحفظ، روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو وسعت دینے کی حمایت کا اظہار کیا۔

آسیان میں پاکستان کے سفیر زاہد حفیظ چوہدری نے آسیان کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم اور مکمل مکالماتی شراکت داری کے حصول کی خواہش کا اعادہ کیا، جبکہ وزارت خارجہ کے ایسٹ ایشیا اینڈ پیسیفک ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر حسیں فاطمہ نے ادارہ جاتی تعاون میں مسلسل توسیع اور موجودہ فریم ورک کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔اپنے استقبالیہ کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے آسیان کو علاقائی تعاون کا ایک اہم نمونہ قرار دیا اور پاکستان اور آسیان کے درمیان زیادہ بامعنی اور نتائج پر مبنی تعلقات پر زور دیا۔

انہوں نے آسیان کے علاقائی اقتصادی انضمام، بشمول علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری، کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع کی جانب خصوصی توجہ مبذول کرائی اور پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے خصوصی روابط کی تجویز پیش کی تاکہ ابھرتے ہوئے مواقع کے بارے میں آگاہی بڑھائی اور مضبوط اقتصادی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔اس سے قبل اپنے تعارفی کلمات میں مرکز برائے پالیسی اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے پاکستان اور آسیان کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی افہام و تفہیم میں اضافے پر زور دیا۔

اختتامی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے وسیع تر، گہرے اور مستقبل پر مرکوز پاکستان اور آسیان شراکت داری پر زور دیا، جسے مضبوط ادارہ جاتی، علمی، کاروباری اور تھنک ٹینک روابط کی حمایت حاصل ہو۔سیمینار میں پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مسلسل مکالمے، عملی تعاون اور بہتر روابط کے ذریعے مزید آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ سیمینار میں آسیان کے رکن ممالک کے سربراہانِ مشن اور نمائندگان، شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید خبریں