وزیرِ آبپاشی کی زیرِ صدارت چیف انجینئرز کا اہم اجلاس، ٹیل تک پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

صوبے میں نہری نظام میں پانی چوری کے تدارک اور ٹیل تک پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ آبپاشی میاں کاظم پیرزادہ کی زیرِ صدارت چیف انجینئرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی ڈاکٹر واصف خورشید، سپیشل سیکرٹری آبپاشی خضر افضال اور محکمہ آبپاشی کے تمام زونز کے چیف انجینئرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی

لاہور۔2ستمبر (اے پی پی):صوبے میں نہری نظام میں پانی چوری کے تدارک اور ٹیل تک پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ آبپاشی میاں کاظم پیرزادہ کی زیرِ صدارت چیف انجینئرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی ڈاکٹر واصف خورشید، سپیشل سیکرٹری آبپاشی خضر افضال اور محکمہ آبپاشی کے تمام زونز کے چیف انجینئرز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیرِ آبپاشی نے پانی چوری کو کاشتکاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ اس کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر فیلڈ میں عملی نگرانی کی جائے اور ہر نہر، ڈسٹری بیوٹری اور مائنر پر پانی کی غیر قانونی نکاسی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ میاں کاظم پیرزادہ نے واضح کیا کہ پانی چوری کا براہِ راست اثر ٹیل کے کاشتکاروں پر پڑتا ہے۔ کسی بھی صورت میں پانی کی غیر قانونی نکاسی یا نہری نظام میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ٹیل اینڈ تک مقررہ شیڈول کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔

سیکرٹری آبپاشی ڈاکٹر واصف خورشیدنے کہا کہ آبپاشی صارفین کی شکایات کو صرف رجسٹر کرنے کے بجائے ان کا عملی حل نکالا جائے۔عوامی شکایات کے ازالے میں تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ افسران کو فیلڈ میں موجود رہ کر مسائل کا فوری تدارک کرنا ہوگا۔انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی جانچنے کے لیے واضح KPIs تیار کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ عملے کی ذمہ داریاں متعین ہوں اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔اجلاس میں محکمہ آبپاشی کی ملکیتی اراضی پر تجاوزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری آبپاشی نے تمام فیلڈ افسران کو تجاوزات کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے اور متعلقہ اراضی کو فوری واگزار کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی قیمتی اراضی پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی معاونت سے پانی چوری کے خلاف باقاعدہ چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر آنے والی پانی چوری سے متعلق شکایات کا بھی فوری نوٹس لے کر ازالہ کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ پانی چوری کے خلاف کارروائی، ٹیل تک پانی کی فراہمی، شکایات کے ازالے اور اراضی کے تحفظ کے لیے فیلڈ سطح پر نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

وزیرِ آبپاشی نے چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ ان ترجیحات کو زونل سطح پر اپنی کارکردگی کا حصہ بنائیں تاکہ محکمہ آبپاشی کی خدمات کا فائدہ ٹیل تک موجود ہر کاشتکار تک پہنچ سکے۔

 

مزید خبریں