ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے پاکستان ریلویز فلیگ شپ ایم ایل ون ریلوے ماڈرنائزیشن پروگرام کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے حوالے سے 8 ستمبر کو دوسرا ارلی مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن منعقد کرنے جا رہا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ریلوے ماڈرنائزیشن پروگرام کے کراچی تا روہڑی سیکشن بارے ارلی مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن 8 ستمبر کو ہوگا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے پاکستان ریلویز فلیگ شپ ایم ایل ون ریلوے ماڈرنائزیشن پروگرام کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے حوالے سے 8 ستمبر کو دوسرا ارلی مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن منعقد کرنے جا رہا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پراجیکٹ کی تیاری، مجوزہ پروکیورمنٹ حکمت عملی اور مستقبل کے کاروباری مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کےلئے آن لائن سیشن میں کنٹریکٹرز، کنسلٹنٹس اور انڈسٹری کے شراکت داروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ،یہ منصوبہ پاکستان کے مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو ملکی آبادی کے 73 فیصد حصے اور اہم صنعتی زونز کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت کاتخمینہ تقریبا 2 اعشاریہ 5 ارب ڈالر ، کوریڈور کی لمبائی تقریبا 480 کلومیٹر ڈبل لائن ٹریک پر مشتمل ہے اور اس کی تکمیل کی مدت ڈھائی سے تین سال مقرر کی گئی ہے، یہ کوریڈور 76 فیصد مسافر اور 98 فیصد مال بردار ٹریفک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میگا پراجیکٹ کے تحت ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف کام سرانجام دیے جائیں گے، ان میں کیماڑی سے لانڈھی، لانڈھی سے حیدرآباد، حیدرآباد سے نواب شاہ اور نواب شاہ سے روہڑی سیکشنز کے سول اور ٹریک ورکس شامل ہیں، اس کے علاوہ پلوں، کلورٹس، سٹیشنوں اور فریٹ یارڈز کی تعمیرِ نو اور بحالی کا کام بھی کیا جائے گا۔
پورے کوریڈور کے لیے جدید سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی تنصیب اور والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ سیشن 8 ستمبر کو دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک آن لائن ویبینار کے طور پر منعقد ہوگا۔ اس ایونٹ کے دوران انڈسٹری کے ماہرین سے مختلف امور پر مارکیٹ فیڈبیک مانگا جائے گا جن میں کنٹریکٹ پیکجز کے سائز، اہلیت کے طریقہ کار اور جوائنٹ وینچر کے سٹرکچرز پر تجاویز شامل ہیں۔ ٹرینوں کے جاری آپریشنز کے دوران تعمیراتی کام کا محفوظ طریقہ کار، مقامی انڈسٹری کی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل اور پائیدار حل پر بھی بات ہوگی۔ پراجیکٹ کی فنانسنگ کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ دیگر اداروں سے بھی ممکنہ اشتراک پر غور کیا جائے گا۔








