وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور حقیقی معاشی تبدیلی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے، جبکہ قرضوں کے سہارے حاصل کیا جانے والا معاشی استحکام دیرپا بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔
برآمدات میں اضافہ پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کی واحد پائیدار راہ ہے، قرضوں پر مبنی استحکام دیرپا نہیں ہو سکتا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور حقیقی معاشی تبدیلی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے، جبکہ قرضوں کے سہارے حاصل کیا جانے والا معاشی استحکام دیرپا بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب وہ مزید قرضوں کے بوجھ پر مبنی نہ ہو۔ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ اور عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے،’’ اڑان پاکستان‘‘ کے تحت جاری اصلاحات اور معاشی ترقی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر زور دیا کہ وہ برآمدات کے فروغ اور ان میں تنوع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اور عملی روڈ میپ کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں وژن 2010 کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی معاونت پاکستان کے لیے اہم رہی، اسی نوعیت کی معاونت کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے برآمدات کے شعبے میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے 2035ء تک پاکستان کی معیشت کو ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف اس مقصد کے حصول کے لیے درپیش رکاوٹوں کے خاتمے اور اہم شعبوں میں اصلاحات کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، غذائی تحفظ، تجارت اور خارجہ امور سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ معاشی سفارت کاری کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022ء سے 2026ء کے دوران پاکستان کی معیشت میں آنے والی بہتری ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک اہم مطالعاتی مثال بن سکتی ہے۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مسلسل اور مؤثر رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ تمام منصوبوں کو قومی ترجیحات سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو غیر معمولی اور غیر موسمی بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر زور دیا کہ وہ چھوٹے ڈیموں، آبی ذخائر اور بارش کے پانی کو عارضی طور پر محفوظ رکھنے کے لیے تالابی نظام سمیت مقامی سطح کے اہم آبی ڈھانچے کی ترقی میں تکنیکی معاونت فراہم کرے۔
احسن اقبال نے کہا کہ بارش کے اضافی پانی کو محفوظ بنا کر شہری علاقوں کو سیلابی صورتحال سے بچانے، زراعت کے لیے پانی کی دستیابی بہتر بنانے اور ملک کے مجموعی آبی تحفظ کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اچانک سرحد پار سے آنے والے پانی کے بہاؤ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے تکنیکی معاونت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کو پائیدار بنیادوں پر منظم کرنے کے لیے ایک جامع سیاحتی انتظامی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
ملاقات کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو 29 اور 30 ستمبر 2026ء کو منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں ہونے والی 25ویں کیریک وزارتی کانفرنس میں پاکستان کے قومی وفد کی قیادت کرنے کی باضابطہ دعوت دی، جسے وفاقی وزیر نے قبول کر لیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے کہا کہ بینک’’ اڑان پاکستان ‘‘کے تحت حکومت پاکستان کی بنیادی ترجیحات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور طویل المدتی پائیدار معاشی ترقی کے لیے پاکستان کی مسلسل معاونت جاری رکھے گا۔








