میڈیکل شعبے میں نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل مستقبل اور معاشرے پر سرمایہ کاری ہے،گورنر خیبرپختونخوا

میڈیکل شعبے میں نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل مستقبل اور معاشرے پر سرمایہ کاری ہے،گورنر خیبرپختونخوا

پشاور۔ 03 ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ میڈیکل شعبے میں نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل مستقبل اور معاشرے پر سرمایہ کاری ہے،میڈیکل کے طلبہ اپنے صوبے اور ملک کی بہتر انداز میں خدمت کرسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن میں سکالرشپ ڈسٹری بیوشن تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر 30 مستحق طلبہ میں سکالرشپس تقسیم کیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ30 مستحق طلبہ کو اسکالرشپ ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مستحق طلبہ کو میرٹ پر سکالرشپ دینے پر نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن کی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ سکالرشپ کا حصول طلبہ کی محنت اور قابلیت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ مستقبل میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں باصلاحیت نوجوانوں کو مزید سکالرشپس اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آج پہلے سے زیادہ بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے،والدین بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قربانیاں دے رہے ہیں،نوجوان ہیلتھ کیئر پروفیشنلز مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ دورے میں بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا استقبال کیا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سینئر وزیر نے استقبال کیا تاہم بعد میں دیے گئے بیانات سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی،چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو دوسرے صوبوں کے دورے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے صوبے کے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا پرامن تھا، چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر میں نے بھی اس میں شرکت کی،پٹرولیم لیوی کی رقم اسی مقصد پر خرچ ہونی چاہیے جس کے لیے یہ عائد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے حکومتی ٹیم کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے خالص منافع میں پنجاب کے مقابلے میں کم رقم ملنے سے متعلق مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے بیان کا علم نہیں، خیبرپختونخوا کے مالی معاملات پر مشیر خزانہ کے پی سے ملاقات طے ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے متوازی کوئی دوسری فورس نہیں ہونی چاہیے،ضم شدہ قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کی ہڑتال کے معاملے پر وزیراعلیٰ وفد بھیجیں،لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل حل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور یونٹس کے قیام سے متعلق بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہیں، شاید پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں اپنی مقبولیت سے خائف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام کو بڑے خواب دکھائے مگر اقتدار میں آکر بلدیاتی اداروں کے اختیارات ختم کیے۔انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندے اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے بھی احتجاج کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جانا چاہیے۔

مزید خبریں