پنجاب میں 29.61ملین ٹن سے زائد ریکارڈ گندم پیداوارسے پاکستان درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ بن گیا، چیف سائنٹسٹ گندم

پنجاب میں 29.61ملین ٹن سے زائد ریکارڈ گندم پیداوارسے پاکستان درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ بن گیا، چیف سائنٹسٹ گندم

فیصل آباد۔ 03 ستمبر (اے پی پی):حکومت پاکستان کے ”گندم کو درآمد نہیں برآمد کرنا ہے ”کے سلوگن کو زرعی سائنسدانوں، فیلڈ افسران اور کاشتکاروں کی بھر پور محنت نے ممکن بنایا۔گزشتہ سال پنجاب میں 29.61ملین ٹن سے زائد گندم کی ریکارڈ پیداوار کے حصول سے نہ صرف فوڈ سکیورٹی کے حصول میں مدد ملی بلکہ اضافی گندم کی برآمد سے کثیر غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور پیداواری اخراجات میں کمی کے لیے زرعی سائنسدان اور توسیعی افسران نئے عزم اور ولولہ کیساتھ کاشتکاروں کی عملی تربیت و فنی رہنمائی کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور کاشتکاروں کی زرعی آمدن بڑھانے کے لئے معیاری بیج اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کرنا انتہائی اہم عوامل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر جاویداحمد، چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم آری فیصل آباد نے پیداواری منصوبہ گندم2026-27 کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ زرعی تحقیقاتی ادارہ گندم فیصل آباد،ازری بھکراور باری چکوال کے زرعی سائنسدانوں کی متعارف کردہ گندم کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام اکبر-19،فخر بھکر،بھکر سٹار، نسان، نواب،اجالا-16،دلکش -2021،سبحانی- 2021 اورعروج 2022 متعارف کروائی ہیں جو بیماریوں کے خلاف قوت مدافت رکھتی ہیں۔

ڈاکٹرمحمد طارق ڈائریکٹر کوارڈینیشن اینڈ فارم ٹریننگ لاہورنے اجلاس میں بتایا کہ گندم کی مشینی کاشت کو فروغ دینے کیلئے کاشتکاروں کواربوں روپے کی جدید زرعی مشینری سبسڈی پر فراہمی کے پروگرام پر بھی عملدرآمد سے گذشتہ سال گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال اور چھوٹے کاشتکاروں کی مالی معاونت وفنی رہنمائی کے ذریعے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا جس سے زرعی خود کفالت کا حصول کو ممکن ہوا۔

اجلاس میں شرکانے گندم کے پیداواری منصوبہ 2026-27کی طباعت کیلئے مختلف موضوعات پر تفصیلی بحث کی جن میں گندم کی کاشت سے لیکر برداشت تک کے عوامل اور اسکی ترقی دادہ اقسام کی کاشت کیلئے موزوں آب و ہوا، شرح بیج، وقت کاشت، زمین کی تیاری، طریقہ کاشت،کھادوں اور پانی کا استعمال، چھدرائی، گوڈی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ کے حوالے سے ماہرین کی رائے لی گئی اورزرعی ماہرین کی طرف سے پیداواری منصوبہ گندم2026-27کے مسودہ کوحتمی شکل دے کر طباعت کے لئے منظور کرلیا گیا۔

اجلاس میں ڈاکٹرمحمد اقبال خان نیازی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر زراعت توسیع لاہور، ڈاکٹر ندیم احمدڈائریکٹر باری چکوال،ڈاکٹر ارشد بشیرڈائریکٹرسوشل سائنسز،این اے آر سی،اعجاز احمدایڈیشنل ڈی جی کراپ رپورٹنگ فیصل آباد،احمد نویدایڈیشنل ڈی جی پیسٹ وارننگ فیصل آباداور ڈاکٹر آصف علی ڈائریکٹر ایگری کلچرل انفارمیشن فیصل آباد سمیت یونیورسٹی کے پروفیسرز اور زرعی سائنسدانوں نے شرکت کی۔

مزید خبریں