وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اہمیت کے امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، کچھی کینال فیز ٹو، پائیڈ اراضی، علامہ اقبال میموریل اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اہمیت کے امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کچھی کینال فیز ٹو منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے لیے اراضی، علامہ اقبال میموریل اور اقبال لائبریری منصوبے کے امور بھی زیر بحث آئے۔ اجلاس میں لورالائی اور ژوب کو ملانے والی 35 کلومیٹر سڑک کی تکمیل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔کچھی کینال منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے ہر مرحلے پر اعلیٰ معیار کی تعمیر اور مقررہ ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کو مؤثر، شفاف اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے حکومت بلوچستان کو تمام دستیاب آپشنز میں شامل کیا جائے۔پائیڈ کے لیے اراضی کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیڈ نے 2017 سے 2020 کے دوران سی ڈی اے کو تقریباً 4 ارب روپے جمع کرائے، تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود ادارے کو مطلوبہ اراضی فراہم نہیں کی گئی۔احسن اقبال نے کہا کہ پائیڈ 2022 سے مسلسل سی ڈی اے سے اس معاملے کے حل کے لیے رابطے میں ہے، لیکن تاحال کوئی قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پائیڈ کے لیے مختص کی جانے والی اراضی اکثر قانونی یا ملکیتی تنازعات میں گھری ہوئی پائی گئی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پائیڈ کو فوری بنیادوں پر اراضی درکار ہے، اور اگر سی ڈی اے کے پاس موزوں زمین دستیاب نہیں تو ادارے کے 4 ارب روپے واپس کیے جائیں۔انہوں نے سی ڈی اے کو فوری اور واضح جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یا تو پائیڈ کو مطلوبہ اراضی فراہم کی جائے یا اس کی رقم واپس کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری ادارے کو اپنے جائز مسئلے کے حل کے لیے اتنے طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑے تو عام شہریوں کو انصاف کی توقع کیسے ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مزید زیر التوا نہیں رہنے دیا جا سکتا۔علامہ اقبال میموریل اور اقبال لائبریری منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ لائبریری کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے تاکہ یہ ملک کے دیگر شہروں کے لیے ایک مثالی منصوبہ بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کو سالِ علامہ اقبال کے طور پر منایا جائے گا، اس لیے منصوبے پر مزید تاخیر کے بغیر کام شروع کیا جائے۔وفاقی وزیر نے سی ڈی اے کو اقبال لائبریری سے متعلق سمری تین روز کے اندر آگے بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو اجلاس میں زیر بحث منصوبوں اور امور پر پیش رفت تیز کرنے اور وزیراعظم کی ہدایات پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔








