مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعاون کو اتحادِ امت کی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے،طاہر اشرفی
مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعاون کو اتحادِ امت کی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے،طاہر اشرفی

مزید خبریں
لاہور ۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری عالمِ اسلام میں اتحاد، امن اور اجتماعی سلامتی کے فروغ کے لیے تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔لاہور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک پالیسی فورم ’’مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی جیومیٹری: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ابھرتا ہوا علاقائی نظام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حالیہ علاقائی بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کیے گئے تحمل اور بردباری نے صورتحال کو مسلم ممالک کے درمیان وسیع تر تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اشرفی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد صورتحال میں تیزی سے پیدا ہونے والی کشیدگی خطے میں ایک خطرناک سلسلہ وار ردِعمل کو جنم دے سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے واضح کر دیا تھا کہ نہ اس کی سرزمین اور نہ ہی اس کی فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاض کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت، تحمل اور بردباری کی پالیسی نے اس تنازع کو عرب ایران تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اگر یہ تصادم شروع ہو جاتا تو اس کے اثرات بالآخر پورے عالمِ اسلام کے لیے انتہائی سنگین اور تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے تھے۔
اشرفی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی قیادت کے ساتھ ان کی بروقت اور مؤثر سفارتی و اسٹریٹجک مشاورت اس امر کی عکاس تھی کہ بحران کو عرب اور مسلم ممالک کے باہمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا ناگزیر تھا۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں اس امر پر توجہ مرکوز کی گئی کہ کسی بھی صورت صورتحال کو وسیع تر تصادم کی جانب نہ جانے دیا جائے۔
اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورت ایک مشترکہ وژن اور سوچ کی عکاس تھی کہ علاقائی جنگ کو مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں بننے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اب علاقائی استحکام، اتحادِ امت اور اجتماعی سلامتی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک کردار کے حامل ممالک کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے پاکستان کے اندر مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کو بھی نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران شیعہ سنی یکجہتی کی ایک غیر معمولی مثال سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے ایران پر حملوں کی مشترکہ طور پر مذمت کی، جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور پاکستان کے اندر امن، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مختلف مذہبی طبقات اور علماء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ ثابت کیا کہ قومی امن و اتحاد کے وسیع تر مفاد میں فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اتحاد اس لیے بھی اہم ہے کہ علاقائی کشیدگی کو مسلم دنیا کے اندر تقسیم اور اختلافات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ابھرتے ہوئے تعاون کے حوالے سے اشرفی نے کہا کہ یہ شراکت داری ایک اہم اسٹریٹجک فریم ورک بن سکتی ہے، تاہم مکہ معاہدے کی اہمیت روایتی سیاسی یا دفاعی اتحادوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون اور مشترکہ فیصلے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عالمِ اسلام کو مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کی روحانی اور علامتی مرکزیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ اتحادِ امت کا مستقبل صرف اسٹریٹجک مفادات نہیں بلکہ ایمان، اخوت، امن، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔
اشرفی نے کہا کہ ابھرتا ہوا علاقائی نظام پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ نہ صرف امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں بلکہ مسلم دنیا کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت، تحمل اور مکالمے پر مبنی حکمتِ عملی نے ثابت کیا ہے کہ علاقائی بحرانوں کو مسلمانوں کے باہمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔اشرفی نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ابھرتے ہوئے تعاون کو ایک پائیدار نظام میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں تاکہ عالمِ اسلام میں امن، سلامتی، اتحاد اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔








