وزیر اعلی بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے جمعرات کو یہاں اے آئی جی پولیس (جینڈر)اسرار احمد عمرانی نے ملاقات کی
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹرربابہ بلیدی سے اے آئی جی پولیس جینڈر اسراراحمد عمرانی کی ملاقات

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 03 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلی بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے جمعرات کو یہاں اے آئی جی پولیس (جینڈر)اسرار احمد عمرانی نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، حقوق کے فروغ، صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور خواتین کے لیے موثر قانونی و ادارہ جاتی معاونت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران خواتین کو درپیش مسائل، پولیس کے نظام میں جینڈر حساسیت کے فروغ اور خواتین سے متعلق شکایات کے موثر اور فوری ازالے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور دیگر صنفی جرائم کی روک تھام کے لیے قانون کے موثر نفاذ کے ساتھ ساتھ پولیس اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے مسائل سے متعلق اداروں کو محض ردعمل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک فعال، حساس اور متاثرہ خواتین کی ضروریات کو سمجھنے والے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں میں جینڈر حساسیت کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے سے خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انہیں بروقت انصاف تک رسائی حاصل ہوگی۔ مشیر برائے ترقی نسواں نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں خواتین کے تحفظ، قانونی آگاہی، معاشی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان موثر رابطہ ضروری ہے۔اے آئی جی پولیس (جینڈر) اسرار احمد عمرانی نے خواتین کے تحفظ اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے تدارک کے لیے پولیس کے اقدامات سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں خواتین کے تحفظ سے متعلق مختلف اقدامات، آگاہی پروگرامز، ادارہ جاتی روابط اور مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








