بینظیر ہسپتال راولپنڈی میں فائر سیفٹی پروٹوکول مزید سخت، ہنگامی راستے کلیئر رکھنے کی ہدایت
بینظیر ہسپتال راولپنڈی میں فائر سیفٹی پروٹوکول مزید سخت، ہنگامی راستے کلیئر رکھنے کی ہدایت
راولپنڈی۔ 03 ستمبر (اے پی پی):بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کی انتظامیہ نے ہسپتال کے تمام حساس اور زیادہ خطرے والے شعبوں میں چوبیس گھنٹے فائر سیفٹی پروٹوکول نافذ کر دیے ہیں جبکہ ہنگامی راستوں کو ہر وقت کلیئر اور فائر فائٹنگ سسٹم کو فعال رکھنے کے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) بینظیر بھٹو ہسپتال ڈاکٹر شرجیل شیخ نے جمعرات کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ حفاظتی معائنوں کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات کا جامع آپریشنل آڈٹ کیا گیا، جس کے دوران فائر ایکسٹنگوشرز، الارمز، ہائیڈرنٹس اور ایمرجنسی ایگزٹ سائنز کی فعالیت اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو)، بچوں کے وارڈز اور گائنی کے شعبوں میں خصوصی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے خطرات کا تدارک اور بچوں، مریضوں اور عملے کے لیے ہنگامی انخلا کے راستوں کو بلا رکاوٹ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر شرجیل شیخ نے بتایا کہ ہسپتال کے عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے تعاون سے لازمی تربیتی اور فرضی مشقوں میں بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تمام اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری ہدایات کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔
ایم ایس نے بتایا کہ ہسپتال میں 5 ہائیڈرنٹ سسٹمز مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ فائر ایکسٹنگوشرز کو اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ فائر سیفٹی الارم سسٹمز کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی اقدامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔









