وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کو 60 ارب ڈالر اور بالخصوص 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے روایتی کموڈیٹیز پر انحصار کم کرکے ویلیو ایڈیشن، برآمدی تنوع اور صنعتی انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔
برآمدات بڑھانے کے لیے ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ پالیسی میں اصلاحات ناگزیر ہیں، رانا احسان افضل
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کو 60 ارب ڈالر اور بالخصوص 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے روایتی کموڈیٹیز پر انحصار کم کرکے ویلیو ایڈیشن، برآمدی تنوع اور صنعتی انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کی زرعی برآمدات سے بھرپور استفادہ کرنے کے حوالے سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں مسابقت مسلسل بڑھ رہی ہے، بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ٹریکٹرز کی پیداوار اور استعمال کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ برازیل کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے نئے رجحانات پاکستانی برآمدات کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف روایتی کموڈیٹیز پر انحصار پاکستان کو عالمی مسابقت میں کمزور کر سکتا ہے۔
رانا احسان افضل نے کہا کہ پاکستان کو اپنی زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے عالمی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ تھائی لینڈ نے ڈرائی فروٹ اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں مہارت حاصل کرکے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ پاکستان کے پاس آم سمیت مختلف اقسام کے پھلوں کی وافر پیداوار موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پھلوں کو ویلیو ایڈڈ اور ڈرائی فروٹ مصنوعات میں تبدیل کرکے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے آگاہی اور سہولت کاری کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ وزارت تجارت، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور متعلقہ ادارے برآمدی پالیسی میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت تقریباً 1260 ایچ ایس اور پی سی ٹی کوڈز سے متعلق 16 مختلف محکمے اور ریگولیٹری باڈیز اپنی ضروریات، انسپیکشنز اور سرٹیفکیشنز عائد کرتی ہیں۔
حکومت ان تمام تقاضوں کا بین الاقوامی معیار کے مطابق جائزہ لے رہی ہے تاکہ غیر ضروری اور زائد ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ جو تقاضے بین الاقوامی بینچ مارکنگ کے مطابق غیر ضروری یا اضافی ثابت ہوں گے، انہیں ختم کیا جائے گا، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے کاروباری ماحول مزید آسان اور مسابقتی بنے گا۔رانا احسان افضل نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے فنانسنگ کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور شرح سود 8.5 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 4.5 فیصد تک آچکی ہے، جو ایکسپورٹرز کے لیے مسابقتی فنانسنگ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ایز کو اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے ایک ارب روپے کا رسک پول قائم کیا گیا ہے جو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے ذریعے فنانسنگ کو مزید آسان بنانے میں معاون ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک اور سمیڈا اس اقدام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکومت کا ہدف بینک کریڈٹ میں ایس ایم ایز کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنا ہے، جس کے نتیجے میں ایس ایم ای شعبے کے لیے تقریباً ایک ٹریلین سے دو ٹریلین روپے تک کی فنانسنگ ونڈو کھل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی ویلیو ایڈیشن سمیت وہ تمام شعبے جو برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس فنانسنگ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔رانا احسان افضل کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف ایکسس ٹو فنانس پر ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک مل کر برآمدی اور ایس ایم ای سیکٹر کے لیے فنانسنگ کی سہولت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برآمدی اہداف کا حصول صرف پیداوار بڑھانے سے نہیں بلکہ ویلیو ایڈیشن، مصنوعات کے تنوع، ریگولیٹری اصلاحات، سستی فنانسنگ اور نجی شعبے کی فعال شمولیت سے ممکن ہوگا۔









