زرعی برآمدات میں اضافہ معاشی خودمختاری کے لیے ناگزیر ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے برآمدی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے برآمدی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کی زرعی برآمدات سے بھرپور استفادہ کرنے کے حوالے سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ’’ اڑان پاکستان ‘‘کے اہداف کے حصول کے لیے برآمدات میں تیزی سے اضافہ ضروری ہے۔ دنیا کے ترقی پذیر ممالک نے برآمدات بڑھا کر ہی پائیدار معاشی ترقی حاصل کی، جبکہ پاکستان کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا معاشی بحران کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باعث پاکستان کو بار بار دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے، تاہم بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں۔

قرض لے کر زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنا وقتی حل ہے، مستقل علاج نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کی طرف بڑھنا ہوگا، بصورت دیگر ملک معاشی مشکلات سے مستقل طور پر نہیں نکل سکے گا۔ نوجوان آبادی کے پیش نظر پاکستان کو 6 سے 8 فیصد معاشی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل میں فقدان نے پاکستان کی ترقی کو متاثر کیا۔ معاشی ترقی کے لیے کم از کم دس سال تک پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وژن 2010 اور وژن 2025 جیسے منصوبے بھی پالیسی تسلسل نہ ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تاہم زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس کی درآمد پاکستان کے لیے بڑا المیہ ہے۔ پاکستان کو اپنی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایگرو فوڈ پروسیسنگ، جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی معیار پر پورا اترے بغیر پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حلال گوشت کی وسیع مارکیٹ پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ وافر لائیو اسٹاک پیداوار کے باوجود پاکستان مشرق وسطیٰ کی طلب پوری نہیں کر پا رہا۔ لائیو اسٹاک انڈسٹری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے حلال گوشت کی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔

عالمی کموڈیٹی سائیکل کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے برآمدات میں تنوع لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت زرعی شعبے سے وابستہ مزید ایک ہزار افراد پر مشتمل دوسرا بیچ جلد چین روانہ کرے گی تاکہ جدید زرعی طریقہ کار اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے زرعی شعبے کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس برآمدات بڑھانے کے لیے وسیع وسائل اور صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے اور زرعی شعبے میں پیداوار، معیار، پروسیسنگ، پیکیجنگ اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ترجیح دی جائے۔