محکمہ زراعت کی پھولوں کے کاشتکاروں کو گل کلغہ کی پنیری ستمبرکے آخرتک باغات اور باغیچوں میں منتقل کرنے کی ہدایت

شعبہ ہارٹیکلچر وفلوریکلچرمحکمہ زراعت کے ماہرین گلبانی وچمن آرائی نے پھولوں کے کاشتکاروں و باغبانوں کو گل کلغہ کی پنیری ستمبرکے آخرتک باغات اور باغیچوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ مذکورہ انتہائی خوبصورت، دلکش موسمی پھول کو گھریلو باغیچوں اور باغات میں لگانے کاعمل جلد مکمل کر لیاجائے تاکہ رنگ برنگ پھول موسم سرما میں اپنی بہار دکھا سکیں۔

فیصل آباد۔ 04 ستمبر (اے پی پی):شعبہ ہارٹیکلچر وفلوریکلچرمحکمہ زراعت کے ماہرین گلبانی وچمن آرائی نے پھولوں کے کاشتکاروں و باغبانوں کو گل کلغہ کی پنیری ستمبرکے آخرتک باغات اور باغیچوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ مذکورہ انتہائی خوبصورت، دلکش موسمی پھول کو گھریلو باغیچوں اور باغات میں لگانے کاعمل جلد مکمل کر لیاجائے تاکہ رنگ برنگ پھول موسم سرما میں اپنی بہار دکھا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ گل کلغہ سدابہار پودا ہے لیکن اسے ہمیشہ موسم سرما کے دوران موسمی پھول کے طور پر ہی لگایا جاتاہے جو نمی کے موسم میں سخت جان ہونے کے باعث نہایت تیزی سے بڑھتا اور پھلتاپھولتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کی سلوشیا کرسٹٹااور دوسری سلوشیا پلوموسا نامی اقسام انتہائی پسندیدگی سے کاشت کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ سلوشیا کرسٹٹا کے پودے پرپیلے اورنج اور گلابی رنگ کے کلغی دار نرم و ملائم ویلوٹی انداز کے پھول لگتے ہیں جو کہ موسم خزاں کے شروع تک اپنا جوبن دکھاتے رہتے ہیں جبکہ سلوشیا پلوموساکے پودے پر اُون کی طرح کے نرم و ملائم، پروں جیسے انتہائی خوبصورت پھول لگتے ہیں جن کا رنگ گہرا سرخ اور سنہری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان دونوں اقسام کو الگ الگ ہی تصور کیا جاتا ہے لیکن بعض ماہر نباتات ان کو ایک ہی نوع یعنی سیلوشیا ارجنٹیناکی اقسام قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغبان و گھریلو افراد پنیری کو کیاریوں اور گملوں وغیرہ میں منتقل کرنے کے بعد اچھی طرح مناسب اور درمیانی مقدار میں پانی لگاتے رہیں اور پھول آجانے کے بعد پانی کی فراہمی نسبتاً کم کردی جائے کیونکہ بہت زیادہ یا بہت کم پانی کی مقدار پودوں کیلئے نقصان دہ ہے۔