نیپال،سیلاب کی زد میں آنے والے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے2 ملازمین کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا

نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کی زد میں آنے والے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے2 ملازمین کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ۔

کھٹمنڈو۔4ستمبر (اے پی پی):نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کی زد میں آنے والے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے2 ملازمین کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ۔

اے ایف پی کے مطابق نیپالی وزرا نے بتایا کہ ان ملازمین کو جمعہ کو ملبے میں دبی ہوئی ایک سرنگ سے نکالا گیا ۔نیپال کے وزیر داخلہ سوڈان گرونگ نے ان افراد کا نام 30 سالہ سنجے شاہ اور 45 سالہ مکینیکل فورمین سپروائزر کبیر مہارجن بتایا ہے۔نیپال کی وزارت توانائی کی طرف سے جاری وڈ یو میں دکھایا گیا ہے کہ امدادی کارکن کیچڑ سے ایک شخص کو نکالنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ایک تصویر میں ایک مٹی میں لتھڑ ے ہوئے ایک شخص کو دکھایا گیا جو اپنے زندہ بچ جانے پر شکر ادا کر رہا ہے اور اسے امدادی کارکن سٹریچر پر ڈال کر لے جا رہے ہیں۔

یہ دونوں ان سینکڑوں ہائیڈرو پاور ورکرز میں شامل تھے جو 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سے لاپتہ ہیں۔وزیر توانائی بیراج بھکتا شریستھا نے تصدیق کی کہ تریشولی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی 3A سرنگ سے دو افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔نیپالی حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ متعدد سرنگوں کے اندر 100 سے زائد کارکن زندہ ہو سکتے ہیں جن کی تلا ش کے لیے ترشولی 3A اور دیگر مقامات پر امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن اب تک 1,250 سے زیادہ نعشیں نکال چکے ہیں جبکہ 5000 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔