فیصل آباد،محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو چنے کی منافع بخش کاشت کے لیے سفارشات پر عملدرآمد کی ہدایت

محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو چنے کی منافع بخش کاشت کے لیے سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فیصل آباد۔ 04 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو چنے کی منافع بخش کاشت کے لیے سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف سائنٹسٹ شعبہ دالیں ڈاکٹر خالد حسین نے بتایا کہ چنے کی جڑوں پر بننے والے گٹھے (Nodules) زمین میں نائٹروجن کی مقدار بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں جس سے آئندہ فصلوں کی پیداوار اور زمین کی زرخیزی میں بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چنے کی کاشت کا تقریباً 90 فیصد حصہ بارانی علاقوں میں ہوتا ہے، تاہم نہری علاقوں میں بھی موزوں زمین اور مناسب آبپاشی کی سہولت رکھنے والے کاشتکار چنے کی فصل کامیابی سے کاشت کرسکتے ہیں۔ چنے کی فصل کو کم پانی درکار ہوتا ہے اور یہ محدود وسائل میں بھی بہتر پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چنے کی کاشت کے لیے ایسی زمین کا انتخاب کیا جائے جس میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام ہو۔

فصل کی بہتر نشوونما کے لیے زمین کو اچھی طرح تیار کرنا ضروری ہے۔ بارانی علاقوں میں جڑی بوٹیوں اور غیر ضروری نباتات کی تلفی کے بعد زمین کو مناسب طریقے سے تیار کیا جائے تاکہ دستیاب نمی زیادہ سے زیادہ فصل کے استعمال میں آسکے۔انہوں نے کہا کہ چنے کی کامیاب کاشت کے لیے منظور شدہ اور معیاری بیج کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ کاشتکار بیماریوں سے پاک، صحت مند اور بہتر پیداوار دینے والی اقسام کا انتخاب کریں۔انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے مناسب زرعی طریقوں کو ترجیح دی جائے اور ضرورت کے مطابق محکمہ زراعت کی سفارش کردہ جڑی بوٹی مار ادویات استعمال کی جائیں۔انہوں نے بتایا کہ چنے کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی زیادتی کی صورت میں ابتدائی مرحلے پر موثر تدارک کیا جائے اورجڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے Pendimethalin کے استعمال کی بھی سفارش کی گئی ہے تاہم کاشتکار کسی بھی زرعی زہر کے استعمال سے قبل لیبل پر درج ہدایات اور محکمہ زراعت کی سفارشات کو ضرور مدنظر رکھیں۔

انہوں نے چنے کی فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چنے میں جھلسائو اور مرجھائو جیسی بیماریاں پیداوار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جھلسائو کی بیماری پھپھوندی سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی ابتدائی علامات پودوں کے پتوں پر بھورے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ سازگار موسمی حالات میں بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے اس لیے کاشتکار فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر محکمہ زراعت کے ماہرین سے مشورہ کریں۔انہوں نے کہا کہ چنے کی فصل میں مناسب آبپاشی بھی پیداوار کے لیے اہم ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ پانی دینے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ چنے کی فصل پانی کے زیادہ جمع ہونے کو برداشت نہیں کرتی لہذا فصل کی ضرورت، زمین کی نوعیت اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبپاشی کی جائے۔

انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ چنے کی فصل کی برداشت مقررہ وقت پر کریں تاکہ دانے مکمل طور پر پک کر بہتر معیار کے ساتھ حاصل ہوسکیں۔ فصل کی بروقت برداشت سے دانوں کے ضیاع میں کمی اور پیداوار کے معیار میں بہتری آتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ چنے کی کاشت سے قبل اپنے قریبی زرعی ماہرین یا فیلڈ عملہ سے مشاورت کریں اور علاقے کی آب و ہوا، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق سفارشات پر عمل درآمد کریں تاکہ فی ایکڑ بہتر پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ فصل کو بیماریوں، کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کے ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔