نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے کےلئے حکومت بھرپور تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے کےلئے حکومت بھرپور تعاون جاری رکھے گی، کوشش ہے کہ عروج وزوال کے چکر سے معیشت کو نکالا جائے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر10.3 فیصد ہو گئی ہے۔

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو آگے بڑھانے کےلئے حکومت بھرپور تعاون جاری رکھے گی، کوشش ہے کہ عروج وزوال کے چکر سے معیشت کو نکالا جائے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر10.3 فیصد ہو گئی ہے۔

جمعہ کویہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام ’’پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اورنجکاری ‘‘سے متعلق قومی سٹرٹیجک مکالمہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ ہماری پہلی ترجیح کلی معیشت کے استحکام کے ماحول کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ہے ، یہ استحکام بڑی محنت سے حاصل ہوا اور انتہائی مشکل فیصلے کیے گئے ہیں لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم دوبارہ بوم اینڈ بسٹ کے چکروں میں واپس نہ جائیں۔دوسری ترجیح استحکام سے پائیدار معاشی نمو کی طرف بڑھنا، تیسری ترجیح ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے موجودہ راستے پر پوری ثابت قدمی سے قائم رہنا اور چوتھی ترجیح یہ ہے کہ نجی شعبے کو ملک کی معیشت کی قیادت جاری رکھنے کے قابل بنایا جائے، یہی وہ مقام ہے جہاں نجکاری کا عمل اہمیت اختیار کرتا ہے ۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران ہم نے دوبنیادی خساروں سے نمٹنے میں خاصا فاصلہ طے کیا ہے ،چندبرس قبل یہ خسارے جی ڈی پی کے 12.5 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گئے ہیں ،اس کمی میں ریونیو میں اضافہ اور دوسری طرف اخراجات میں کمی نے کردار ادا کیا ہے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے ہم نے افرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جو اقدامات کیے ان کے نتیجے میں گزشتہ دو سال کے دوران ہماری ریونیو وصولیوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے،اس وقت سول حکومت چلانے کے اخراجات، قرضوں کی ادائیگی کی لاگت وغیرہ سمیت مجموعی اخراجات کو کم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے ،ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب جو ایک عرصے سے محض 8.8 فیصد پر جمود کا شکار تھا جو اب بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گیا ہے۔ ہمیں اسے مزید بڑھاتے ہوئے قلیل مدت میں 11 سے 12 فیصد تک لے جانا ہوگا تاکہ ہم خطے کے ممالک کی سطح تک پہنچ سکیں ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ترسیلاتِ زر کے مستحکم بہا ئوکے ساتھ ساتھ آئی ٹی برآمدی خدمات میں حقیقی نمو نے بھی مدد دی۔گزشتہ سال آئی ٹی برآمدی خدمات کا حجم 4.6 ارب ڈالر رہا، جس میں سے 1.6 ارب ڈالر فری لانسرز نے فراہم کیے۔ یہ یقینا ایک بہت اچھی پیش رفت ہےتاہم آگے بڑھتے ہوئے ہمیں اشیا کی برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، جو تقریبا 30 ارب ڈالر کے آس پاس جمود کا شکار رہی ہیں۔ یہی وہ شعبہ ہے جس پر ہمیں مستقبل میں کام کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری کاروباری اداروں کے حوالے سے موثر پیش رفت نہیں کر سکتے اور نہ ہی نجکاری کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جب تک توانائی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات نہ کی جائیں ،سرکاری اداروں کے حوالے سے بھی ہم نے 27 ٹرانزیکشنز نجکاری کمیشن کو منتقل کی ہیں، اسی طرح ایسے سرکاری ادارے جو ناقابلِ اصلاح ہو چکے تھے ہم نے انہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ چاہے ان میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ہو اورپاک پی ڈبلیو ڈی کی بندش جیسے مشکل فیصلے شامل تھے ،پبلک فنانس کے شعبے میں قرضوں کی خدمت کی لاگت کم کرنا اور اسی طرح اس وقت جاری پنشن اصلاحات بھی ہماری ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ قرض لینے کی ضروریات کے لیے بینکاری نظام پر انحصار بلکہ حد سے زیادہ انحصار اب مزید پائیدار نہیں رہا اسی لیے ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں،ہمارے ایکویٹی کیپٹل مارکیٹس نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے،سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کار آرہے ہیں اور ہم مسلسل بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں تاہم ہمیں قرض کی کیپٹل مارکیٹ پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاری کی بنیاد کو مزید متنوع بنایا جا سکےتاکہ بینکاری نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔اس سلسلے میں اقداما ت کا سلسلہ جاری ہے ،وزارتِ خزانہ اورجاز کیش کے تعاون سے براہِ راست ریٹیل سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اب پانچ ہزار روپے رکھنے والا شخص بھی ایپ کے ذریعے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری شروع کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مجموعی قرض کے حوالے سے بھی غور کر رہے ہیں، پانڈا اوریورو بانڈ کا اجرا ہوچکا ہے ، ہانگ کانگ کی طرز پر ہم اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کے کچھ حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس لیے یہ اہم ہے کہ حکومت کی ہر وزارت، ہر ادارہ اور ہر محکمہ نجی سرمایہ کو اس عمل میں شامل کرنے کے لیے کچھ مختلف اور نئے طریقے آزمائے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے پی آئی اے کے معاملے نے ہمیں حوصلہ اور رفتار فراہم کی ہے،اس کا ایک اہم پہلو بڑے مقامی سرمایہ کاروں اور بڑے مقامی کاروباری گروپس کی اس عمل میں شرکت بھی ہے۔ہم ہمیشہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے مقامی سرمایہ کاروں کو آگے بڑھ کر یہ عزم اور آمادگی ظاہر کرنا ہوگی کہ وہ کام کرنا اور سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے بیرونی دنیا بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک بہت مضبوط مثبت پیغام جاتا ہے،بڑے کاروباری گروپس ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے حوالے سے اہم پیش رفت ہورہی ہےجومجموعی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے ،اس کے ذریعے ہم روایتی عروج و زوال کے چکروں سے دور جا سکتے ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حوالے سے نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی سطح پر بھی خاصی پیش رفت ہو رہی ہےاس حوالے سے بنیادی فریم ورک موجود ہے۔

پاکستان کے اندر ہی ہمارے پاس ایسے کامیاب ماڈلز موجود ہیں جن کی پیروی کی جا سکتی ہے۔ ہم صوبوں کی کامیاب مثالوں سے استفادہ کر سکتے ہیں بالخصوص ان لوگوں کے تجربات سے جنہوں نے یہ لین دین مکمل کیے ہیں اور ہم سے پہلے اس سفر پر چل چکے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہم نجی سرمایہ کومتحرک کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں تمام راستوں اور امکانات کو دیکھنا ہوگا اور یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے اختیار میں کیا کچھ ہے۔کچھ عوامل ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے۔ بعض بیرونی عوامل، بیرونی جھٹکے اور اچانک پیدا ہونے والے ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں جن کی پیش گوئی مشکل ہوتی ہے لیکن جو چیزیں خواہ وہ قانون سازی کا ایجنڈا ہو، ٹیکس کا شعبہ ہو یا ریگولیٹری ماحول جوہمارے اختیار میں ہیں، ان پر ہمیں بھرپور توجہ دینا ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی پوری مشینری نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔