عالمی بینک نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا میں 2025 کے تباہ کن اوراچانک آنیوالے سیلاب کے دوران شدید متاثرہ علاقوں کے 85 فیصد خاندانوں کو سیلاب سے قبل کوئی پیشگی اطلاع موصول نہیں ہوئی، رپورٹ میں مستقبل میں سیلاب سے پیشگی آگاہی کے نظام اورامدادی سرگرمیوں کے حوالہ سے کئی اہم سفارشارت بھی پیش کی گئی ہیں۔
2025 کے سیلاب کے دوران خیبر پختونخوا کے 85 فیصد متاثرہ خاندانوں کو پیشگی اطلاع نہیں ملی، عالمی بینک اور خیبر پختونخوا حکومت کی مشترکہ رپورٹ
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا میں 2025 کے تباہ کن اور اچانک آنیوالے سیلاب کے دوران شدید متاثرہ علاقوں کے 85 فیصد خاندانوں کو سیلاب سے قبل کوئی پیشگی اطلاع موصول نہیں ہوئی، رپورٹ میں مستقبل میں سیلاب سے پیشگی آگاہی کے نظام اورامدادی سرگرمیوں کے حوالہ سے کئی اہم سفارشارت بھی پیش کی گئی ہیں۔
یہ بات خیبر پختونخوا کی حکومت اور عالمی بینک گروپ کی مشترکہ کاوش سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں کہی گئی ہے، ”دی لاسٹ مائل اینڈ دی فرسٹ آورز: لیسنز اینڈ ریکمنڈیشنز فرام دی 2025 فلیش فلڈز اِن خیبر پختونخوا“ کے نام سے جاری رپورٹ میں سیلاب سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں مستقبل میں ہنگامی حالات سے نمٹنے، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے کئی اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 15 اگست 2025 کو ضلع بونیر میں ایک گھنٹے کے دوران 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو ضلع کی سالانہ مجموعی بارش کا تقریباً 15 فیصد تھی، شدید بارش کے نتیجے میں پہاڑی ڈھلوانوں سے پانی، پتھر اور ملبہ تیزی سے نشیبی علاقوں میں پہنچا جس سے چند ہی منٹوں میں مکانات اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، رپورٹ میں ایک ضلعی افسر کے حوالہ سے بتایاگیاہے کہ بارش معمول کے مطابق شروع ہوئی تھی اور بظاہر کسی بڑے سانحے کے آثار نہیں تھے تاہم کلاو ڈ برسٹ نے لوگوں کو تیاری یا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے مناسب وقت فراہم کرنے کا موقع نہیں دیا ۔
بعد ازاں صوبے کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں بونیر، شانگلہ، سوات اور دیگر اضلاع میں اچانک سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں 509 افراد جاں بحق ہوئے اور مکانات، بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کے ذرائع معاش کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق بونیر، شانگلہ اور سوات کے 1207 متاثرہ خاندانوں کا سروے کیا گیا، سروے کے مطابق 85 فیصد خاندانوں کو سیلابی پانی آنے سے قبل کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی، جبکہ جن خاندانوں کو اطلاع ملی ان میں سے نصف کے پاس کارروائی کے لیے 30 منٹ سے بھی کم وقت تھا۔،متعدد علاقوں میں جدید مواصلاتی ذرائع کے بجائے مقامی اور روایتی ذرائع نے لوگوں کو خبردار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مساجد کے لائوڈ سپیکرز، رشتہ داروں کی فون کالز اور پڑوسیوں کی جانب سے گھر گھر اطلاع رسانی کے ذریعے لوگوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا۔ ایک گائوں میں مقامی سرکاری اہلکار نے مسجد کے امام کو فون کے ذریعے سیلابی ریلے کی اطلاع دی، جس پر امام نے فوری طور پر لائوڈ سپیکر کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا ، اس اقدام سے قیمتی انسانی جانیں بچانے میں مدد ملی۔
سروے میں شامل 85 فیصد افراد نے اپنے گائووں کو سیلاب کے خطرے سے دوچار نہ ہونے کا اظہار کیا ، حالانکہ 56 فیصد نے تصدیق کی کہ ان کے علاقوں میں ماضی میں سیلاب آچکا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال مقامی سطح پر سیلاب کے حوالہ سے خطرات کے بارے میں آگاہی کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے 36 اضلاع میں سے صرف تین اضلاع کے لیے کثیرالجہتی خطرات اور کمزوریوں کے جائزے موجود ہیں۔ صوبے کی ہنگامی منصوبہ بندی بھی بڑی حد تک دریائی سیلابوں پر مرکوز رہی ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب زیادہ تیز، مقامی نوعیت کے اور مشکل پیش گوئی کے حامل ہوتے ہیں۔رپورٹ میں ریسکیو کارروائیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 44 فیصد خاندانوں، یعنی 530 گھرانوں نے ریسکیو خدمات کی ضرورت ظاہر کی، تاہم ان میں سے 95.5 فیصد نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ سکیں۔
سڑکیں اور راستے ملبے سے بند ہونے کے باعث امدادی کارکنوں کو کئی مقامات تک پیدل پہنچنا پڑا اوربعض علاقوں میں معمول کے ایک گھنٹے کے سفر میں چار گھنٹے لگے۔ رپورٹ کے مطابق بھاری مشینری اور دیگر ضروری امدادی آلات کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ رہی، بعض علاقوں میں مقامی رضاکاروں نے نجی شعبے سے کرینیں حاصل کرکے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا، جبکہ کئی مقامات پر ریسکیو اہلکاروں اور مقامی آبادی نے دستیاب چھوٹے آلات کے ذریعے امدادی کارروائیاں انجام دیں۔ رپورٹ میں خواتین اور دیگر کمزور طبقات کی ہنگامی صورتحال میں مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ جن گھرانوں کو پیشگی اطلاع ملی، ان میں 51 فیصد خواتین کو سیلاب کی اطلاع کسی مرد رکن خاندان کے ذریعے ملی، خیبر پختونخوا کی ریسکیو 1122 سروس میں خواتین اہلکاروں کا تناسب صرف 1.8 فیصد ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صوبے کے تمام 36 اضلاع میں کثیرالجہتی خطرات اور کمزوریوں کے جائزے مکمل کیے جائیں، پہاڑی علاقوں میں بارش اور سیلاب کی نگرانی کے نظام کو وسعت دی جائے، پیش گوئی اور وارننگ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور مساجد، مقامی عمائدین اور دیگر قابل اعتماد کمیونٹی ذرائع کو باقاعدہ طور پر ابتدائی وارننگ کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اسی طرح صوبے بھر میں ریسکیو آلات اور سہولیات کی جامع فہرست مرتب کرنے، نجی شعبے سے بھاری مشینری کی ہنگامی دستیابی کے لیے پیشگی معاہدے کرنے، ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز اور امدادی گودام قائم کرنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ مشقیں منعقد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں ریسکیو سروسز میں خواتین کی بھرتی اور تربیت بڑھانے، خواتین ہیلتھ ورکرز، اساتذہ، کمیونٹی تنظیموں اور خواتین کی نمائندگی رکھنے والی تنظیموں کو ابتدائی وارننگ اور امدادی سرگرمیوں میں شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2025 کے سیلاب نے واضح کردیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی ردعمل کافی نہیں، بلکہ خطرات کی پیشگی نشاندہی، موثر ابتدائی وارننگ، مناسب ریسکیو آلات، مقامی سطح پر رابطہ کاری اور مضبوط ادارہ جاتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔









