کی جنگ میں عوام نے شوق شہادت سے سر شار ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ انڈیا کا مقابلہ کیا، چوہدری منظور حسین

ستمبر 1965 کی جنگ۔ ان خیالات کااظہار چونڈہ کے قریبی گاؤں کہوگڑھ کے رہائشی تحریک پاکستان کے معمر العمر کارکن چوہدری منظور حسین نے ستمبر 1965 کی جنگ کی داستان ’’اے پی پی‘‘ کو سناتے ہوئے کیا

سیالکوٹ ۔04 ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ۔ ان خیالات کااظہار چونڈہ کے قریبی گاؤں کہوگڑھ کے رہائشی تحریک پاکستان کے معمر العمر کارکن چوہدری منظور حسین نے ستمبر 1965 کی جنگ کی داستان ’’اے پی پی‘‘ کو سناتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ ان دنوں کو یاد کرتے ہیں تو جنگ کے وہ مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں ،جب بھارتی ٹینک کہوگڑھ کے راستے پاکستان پر یلغار کے لیے آگے بڑھ رہے تھے ،فضا جنگی طیاروں کی گھن گرج، بمباری، توپوں کی گولہ باری سے لرز رہی تھی تو انکی آنکھوں میں آنسو جاری ہو جاتے ہیں ،انکے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ،موت کا منظر انکی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ستمبر کی شدید حبس گرمی میں لوگ گولیوں سے بچنے کے لئے کماد کی فصل میں چھپ کر لیٹ جاتے جہاں لوگوں کے اوپر سے انڈین ٹینک گزر جاتے ، لوگ شہید ہو جاتے،فضا میں اڑتی گرد و غبار،دھواں، بارود کی بُو نے ماحول مزید خوفناک بنا دیا تھا۔

انکے سامنے جب ٹینکوں کو آگ لگتی تو آگ کا الاؤ روشن ہو جاتا اور بہت زیادہ دھواں اٹھتا ۔انہوں نے کہا گولیوں کی بوچھاڑ مکڑی کے جال کی طرح چاروں طرف بارش کی طرح برستی نظر آتی تھی ہم لوگ زمین پر لیٹ کر جان بچاتے ، ہمارے سروں کے پاس سے گولیاں گز رجاتیں جبکہ گولہ بارود کے دھماکوں سے زمین لرزتی تھی۔ جگہ جگہ تباہی کے مناظر لاشوں کا تعفن سانس لینا محال ،زندگی کے سامنے موت کا عملی رقص دیکھا ، خوراک ،پینے کے پانی سمیت ضروری اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہوگئی تھی، انڈین فوج نے پانی پینے والے کنوں کے اندر زہر ڈال دیا تھا جس سے لوگوں کی اموات ہو رہی تھیں ،شدید پیاس کے عالم میں لوگوں کے مال مویشی بھی جس حال میں تھے وہ بیان نہیں کیا جا سکتا،ہر طرف موت کا رقص تھا۔ایسے کربناک حالات میں کہوگڑھ کے مکینوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کی۔ کسی کا پیارا شہید ہوا، کوئی اپنے خاندان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا، لوگوں کی جمع پونجی، برسوں کی محنت جنگ کی نذر ہوگئی۔ انڈیا کی فوج لوگوں کے گھروں سے لوٹ کھسوٹ کر کےسب کچھ لے گئے جاتے ہوئے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا گئے، لوگوں کے پاس بچانے کے لیے کچھ نہ تھا، مگر دلوں میں وطن کی محبت ،جذبۂ شہادت ،اللہ پر توکل پہلے سے زیادہ مضبوط تھا۔

جنگ کے ان نازک لمحات میں پاک فوج کے جوانوں نے بے مثال جرأت بہادری سے انڈیا کو دندان شکن مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے اور پاکستان کا د فاع کیا۔ سرحدی علاقوں کے عام شہری بھی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے،اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کے جذبے سے سرشار نظر آئے۔چوہدری منظور حسین کہتے ہیں کہ 1965 کی جنگ نے ان سے بہت کچھ چھین لیا، مگر وطن کی آزادی، سلامتی ،سربلندی کی محبت آج بھی ان کے دل میں اسی طرح زندہ ہے۔ کہوگڑھ کے ان باسیوں کی داستان اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگوں میں صرف فوجی محاذ پر نہیں لڑتے بلکہ سرحدی علاقوں کے عام لوگ بھی اپنے گھر، مال جان تک وطن پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔1965 کی جنگ میں عوام نے شوق شہادت سے سر شار ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ انڈیا کا مقابلہ کیا۔

 

مزید خبریں