جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں مقامی آبادیوں کو ساتھ لے کر چلنا انتہائی ضروری ہے ، سردار ایاز صادق
جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں مقامی آبادیوں کو ساتھ لے کر چلنا انتہائی ضروری ہے ، سردار ایاز صادق

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنگلی حیات کے تحفظ اور ان کے قدرتی مساکن کی بقا، قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال، سائنسی بنیادوں پر افزائشِ نسل اور مقامی آبادیوں کی شمولیت کو پاکستان کے قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ جمعہ کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے سلام آباد میں سفاری کلب انٹرنیشنل (ایس سی آئی) پاکستان کے زیر اہتمام ’’جنگلی حیات کا تحفظ، ذمہ دارانہ استعمال اور نگہداشت‘‘کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب میں کیا۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، ارکان و سابق ارکان پارلیمنٹ، محکمہ جنگلی حیات کے حکام، ماہرینِ تحفظِ ماحول و جنگلی حیات، سفاری کلب انٹرنیشنل کے اراکین اور دیگر متعلقہ شخصیات نے کی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپنی نوجوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ پیلٹ گن سے شکار کیا کرتے تھے اور گرمیوں کے موسم میں طویل وقت کھلے آسمان تلے گزارتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں موبائل فون اور ڈیجیٹل آلات نہیں تھے اور کھلے میدان، جنگلات اور پہاڑ ہی تفریح کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چیئرمین سید صمصام علی بخاری، عہدیداران اور اراکین کی جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی حفاظت، ذمہ دارانہ شکار کے فروغ، ماحول کے تحفظ، جانوروں کی افزائشِ نسل و فلاح اور مقامی آبادیوں کے لیے سماجی خدمات کو سراہا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں مقامی آبادیوں کو ساتھ لے کر چلنا انتہائی ضروری ہے اور جانوروں کی سائنسی بنیادوں پر افزائشِ نسل ماحولیاتی نظام کے توازن، جنگلی حیات کی بقا اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے ماحولیاتی انحطاط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور ہر سال سیلاب کے باعث قیمتی انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز، پہاڑوں، جنگلات اور قدرتی مساکن کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے گرین انرجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2015ء میں پارلیمنٹ آف پاکستان دنیا کی پہلی گرین پارلیمنٹ بنی اور پاکستان کی پہلی سرکاری عمارت بھی بنی جسے نیٹ میٹرنگ کی سہولت حاصل ہوئی۔
کووڈ 19 کے دوران شہری علاقوں میں جنگلی حیات کی غیر معمولی موجودگی نے واضح کیا کہ جنگلی حیات ماحولیاتی توازن کا ایک لازمی حصہ ہے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری واٹر ہارویسٹنگ منصوبے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی اپنی عمارت میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے اپنا نظام قائم کر رہی ہے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ درختوں کی غیر ضروری کٹائی کی روک تھام اور نئی تعمیر ہونے والی رہائشی عمارات میں پانی ذخیرہ کرنے اور محفوظ بنانے کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قرارداد جلد لائی جائے گی۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے جانوروں کے غیر قانونی شکار کی روک تھام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیداری کے لیے سائنسی بنیادوں پر افزائشِ نسل کے پروگراموں کو فروغ دینا ہوگا۔ مارخور پاکستان کے قیمتی قدرتی ورثے کی علامت ہے جبکہ اس اور دیگر جنگلی حیات کا تحفظ ماحولیاتی توازن اور پاکستان کے عالمی تشخص کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اس موقع پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے سفاری کلب انٹرنیشنل کے غیر ملکی اراکین کو پاکستان کے قدرتی حسن، متنوع جغرافیہ اور سیاحتی مقامات، خصوصاً شمالی علاقوں، گلیشیئرز اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی حفاظت اور ماحول دوست اقدامات کے لیے سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شکاریوں، ماہرینِ تحفظِ جنگلی حیات، ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور مقامی آبادیوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون پائیدار تحفظِ جنگلی حیات کے لیے ناگزیر ہے۔
تقریب کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سازگر انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ کے بانی و چیف ایگزیکٹو میاں اسد حمید کو بھی ایوارڈ پیش کیا۔ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے سفاری کلب انٹرنیشنل کے اراکین، ماہرینِ تحفظِ جنگلی حیات اور دیگر شخصیات میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات تقسیم کیے۔







