شام میں بارودی مواد سے شہریوں کو مہلک خطرہ، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ نے شام میں بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکا خیز مواد کی موجودگی سے شہریوں کو لاحق مہلک خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے بتایا کہ بارودی مواد کی آلودگی نہ صرف لوگوں کے رہائشی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان کی نقل و حرکت، روزگار اور خاندانوں کی کفالت کی صلاحیت کو بھی …

اقوام متحدہ ۔5ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے شام میں بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکا خیز مواد کی موجودگی سے شہریوں کو لاحق مہلک خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے بتایا کہ بارودی مواد کی آلودگی نہ صرف لوگوں کے رہائشی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان کی نقل و حرکت، روزگار اور خاندانوں کی کفالت کی صلاحیت کو بھی متاثر کررہی ہے۔

او سی ایچ اے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شام کی چھ گورنریٹس میں بارودی مواد سے متعلق ایک درجن واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 9 افراد ہلاک، جن میں 6 بچے شامل ہیں، جبکہ 13 دیگر زخمی ہوئے۔دفتر نے بتایا کہ پیر کے روز دیر الزور گورنریٹ میں ایک بارودی سرنگ نے شہری گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ بچے جاں بحق اور تین دیگر شہری زخمی ہوگئے۔

شمالی شام کی رقہ گورنریٹ میں بارودی مواد کے دھماکوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی، جو جنگی باقیات سے لاحق مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔اوسی ایچ اے کے مطابق 8دسمبر 2024 سے اب تک شام بھر میں بارودی مواد سے متعلق 1,400 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جن میں تقریباً 2500 شہری متاثر ہوئے، جن میں 880 اموات** شامل ہیں۔

اوچا نے کہا کہ ان واقعات میں دو تہائی سے زیادہ زرعی اور مویشیوں کے چرنے والی زمینوں پر پیش آئے، جس سے کسانوں، چرواہوں اور دیہات کے درمیان سفر کرنے والے افراد کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بارودی مواد صاف کرنے کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔بارودی سرنگوں کی صفائی کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے مطابق شہریوں کو بارودی مواد کے خطرات سے آگاہ کرنا، صفائی کی کارروائیاں کرنا اور متاثرین کو امداد فراہم کرنا شہریوں کے تحفظ اور انہیں محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔