او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اور کامسٹیک کے تحت پائیدار واٹر گورننس اور واٹر سکیورٹی پر تین روزہ تربیتی پروگرام شروع ہو گیا

او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اور کامسٹیک کے تحت سیسرک اور حصار فائونڈیشن کے تعاون سے پائیدار واٹر گورننس اور واٹر سکیورٹی پر تین روزہ تربیتی پروگرام کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ پروگرام میں ماہرین، پالیسی ساز، محققین اور ترقیاتی اداروں کے نمائندے شریک ہیں جو پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زیر زمین پانی کے انتظام، آبی آلودگی، جدید آبپاشی، ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ، مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ، فنڈنگ …

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اور کامسٹیک کے تحت سیسرک اور حصار فائونڈیشن کے تعاون سے پائیدار واٹر گورننس اور واٹر سکیورٹی پر تین روزہ تربیتی پروگرام کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔ پروگرام میں ماہرین، پالیسی ساز، محققین اور ترقیاتی اداروں کے نمائندے شریک ہیں جو پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زیر زمین پانی کے انتظام، آبی آلودگی، جدید آبپاشی، ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ، مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ، فنڈنگ اور بین الاقوامی آبی تعاون کے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سائنس و ٹیکنالوجی سفیر آفتاب احمد کھوکھر نے پروگرام کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے متعدد ممالک پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے دبائو کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین اور شرکا کی سفارشات کو اہمیت دی جائے گی اور او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ رکن ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون اور علم کے تبادلے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ سیسرک کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ زمرت سلچک نے کہا کہ او آئی سی واٹر رپورٹ 2025 کے مطابق 16 رکن ممالک اس وقت پانی کے شدید دبائو کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 2050ء تک 17 ممالک میں پانی کا دبائو انتہائی بلند اور مزید 10 ممالک میں بلند سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی کے موثر استعمال، ڈیٹا کی بنیاد پر پالیسی سازی، جدید ٹیکنالوجی اور او آئی سی ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت ہے۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ پانی کی حفاظت کا براہ راست تعلق خوراک، صحت، زراعت، موسمیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی سے ہے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک کو محض مکالمے سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیٹا اور عملی تجربات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، ریموٹ سینسنگ اور ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ کے ذریعے محدود آبی وسائل کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تین روزہ پروگرام میں جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں میں واٹر گورننس، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ آبپاشی، مشترکہ زیر زمین آبی ذخائر، آبی آلودگی، کمیونٹی کی شمولیت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے موضوعات شامل ہیں۔اسلامی ترقیاتی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، افریقی واٹر فسیلٹی، یونیسکو، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور دیگر اداروں کے ماہرین پانی کے منصوبوں کی فنڈنگ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔پروگرام کے اختتام پر او آئی سی ممالک کے لیے ایک سٹریٹجک واٹر کوآپریشن روڈ میپ اور مشترکہ سفارشات مرتب کی جائیں گی۔