ماہرین کی ترکیہ پاکستان ’سسٹر سٹیز‘ پائلٹ منصوبہ، یورپ کے لئے پاکستانی کیئر گیورز تیار کرنے کی تجویز

پاکستان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کےلئے ماہرین نے ملک میں بزرگ شہریوں کےلئے جامع صحت و نگہداشت کا نظام قائم کرنے، عمر دوست شہروں کی منصوبہ بندی، کمیونٹی کیئر کو فروغ دینے اور عمر رسیدہ افراد کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):پاکستان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کےلئے ماہرین نے ملک میں بزرگ شہریوں کےلئے جامع صحت و نگہداشت کا نظام قائم کرنے، عمر دوست شہروں کی منصوبہ بندی، کمیونٹی کیئر کو فروغ دینے اور عمر رسیدہ افراد کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان آج نوجوان آبادی کے بڑے حصے کی وجہ سے آبادیاتی فائدے سے گزر رہا ہے لیکن اگلی تین دہائیوں میں یہی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو جائے گی اس لئے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ابھی سے پالیسی سازی ضروری ہے۔

یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور ترکیہ کے ابن سینا انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی مذاکرے ’’عمر رسیدگی اور ترقی‘‘ میں کہی گئی جس میں عمر رسیدگی کے طبی، سماجی، معاشی، پالیسی اور روحانی پہلوئوں پر ماہرین نے اظہار خیال کیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف ماہرِ عمر رسیدگی ڈاکٹر کمال آیدِن نے کہا کہ عمر رسیدگی کسی ایک طبقے یا نسل کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت سے متعلق ایک عالمی حقیقت ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر بزرگ شہریوں کے مسائل کو موثر انداز میں حل کرنے کےلئے عمر رسیدگی کے بارے میں ایک عالمی کنونشن بلانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے عالمی سطح پر ڈاکٹرز، نرسوں، کیئر گیورز اور دیگر نگہداشت کارکنوں کی تربیت پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بزرگ افراد اپنے تجربے، علم اور دانش کے ذریعے معاشرے اور معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’’سسٹر سٹیز‘‘ کے پائلٹ منصوبے کی بھی تجویز دی۔ڈاکٹر آیدن نے کہا کہ پاکستان کے متعدد ماہر امراض سالمندی بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں جن کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی ایشیا کی سطح پر ایک مضبوط جیریاٹرک ادارہ اور تحقیقی نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ہر صوبے میں علاقائی جیریاٹرک تحقیقی ہسپتال قائم کرنے اور ’’ہیلتھ ایج فرینڈلی سمارٹ پاکستان‘‘ پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان آبادی کو معاشی قوت بنانے پر توجہ کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ آج کے نوجوان تقریباً تین دہائیوں بعد عمر رسیدہ آبادی کا حصہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسا جامع ترقیاتی ماڈل اپنانا چاہئے جس میں بزرگ شہری بھی ترقی کے عمل میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اولڈ ایج ہومز کو صرف تنہائی کی جگہ سمجھنے کے بجائے بعض اوقات ہم خیال افراد کی فعال کمیونٹیز کے طور پر منظم کیا جاتا ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں عمر رسیدگی کے بارے میں روایتی تصورات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔فائونڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلیوسیو ڈویلپمنٹ (ایف اے آئی ڈی) کے چیف ایگزیکٹو سید معیز الدین کاکاخیل نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 1 کروڑ 66 لاکھ افراد موجود ہیں جن کی تعداد 2050 تک 3 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

انہوں نے بزرگ شہریوں کو درپیش چار بڑے مسائل میں صحت اور نگہداشت، معاشی تحفظ، سماجی تنہائی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کو نمایاں کیا۔انہوں نے کہا کہ بزرگوں کے لئے گھر پر نگہداشت، معاون ٹیکنالوجی، عمر دوست صحت کی سہولتیں اور کمیونٹی کیئر کے نظام کو ترجیح دی جانی چاہئے۔معیز الدین نے بتایا کہ ایف اے آئی ڈی عمر رسیدگی کے حوالے سے ایک قومی فریم ورک پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بزرگ خواتین اور معذوری کے شکار عمر رسیدہ افراد کو موجودہ سماجی پروگراموں میں شامل کرنے، جیریاٹرک تربیت بڑھانے، کمیونٹی کیئر کیڈر تشکیل دینے اور نوجوانوں و بزرگوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے ذریعے روابط مضبوط کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے تحقیق ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ عمر رسیدگی اور ترقی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور اس معاملے کو پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ نوجوان آبادی آنے والی دہائیوں میں عمر رسیدہ آبادی میں تبدیل ہوگی اس لئے ابھی سے ایسی پالیسی بنانا ضروری ہے جو بزرگوں کو معاشی اور سماجی طور پر فعال رکھ سکے۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر کمال آیدِن نے پاکستان، ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان مشترکہ تحقیق، تجربات اور بہترین عملی نمونوں کے تبادلے پر زور دیا۔ماہرین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو عمر رسیدہ افراد کو مستقبل کا بوجھ سمجھنے کے بجائے قومی ترقی کا اثاثہ تصور کرنا ہوگا۔ بزرگوں کے لئے بہتر صحت، معاشی تحفظ، سماجی شمولیت اور باعزت زندگی کی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ان کے تجربے اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہی ایک حقیقی عمر دوست اور جامع ترقیاتی پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مزید خبریں