کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کی آمدورفت کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی، اجلاس میں فاطمہ فرٹیلائزرز اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظامات کے تحت 30 ستمبر 2026ء تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایس سی او اجلاس کیلئے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کےلئے گرانٹ کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کی آمدورفت کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی، اجلاس میں فاطمہ فرٹیلائزرز اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظامات کے تحت 30 ستمبر 2026ء تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس پیرکویہاں وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ستمبر 2027ء میں پاکستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کی آمدورفت کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے حوالہ سے 12.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا۔
ای سی سی نے ان تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور بھرپور مشاورت کے بعد 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔ ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو اضافی ضرورت کی صورت میں دوبارہ سمری پیش کرنے ،کسی بھی اضافی طلب کے لیے ضرورت کا جامع تجزیہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر معاملہ دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے تمباکو کی فصل کی کم از کم اشاری قیمتوں اورمالی سال 2027ء کے لیے سیس کی شرح میں نظرثانی سے متعلق سمری کابھی جائزہ لیاگیا۔ جامع بحث کے بعد کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تجویز کے لیے مزید مدلل بنیادوں کی ضرورت ہے ۔ ای سی سی نے ایجنڈا موخر کرتے ہوئے وزارت کو قابل جواز تجزیے کے ساتھ تجویز دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے جڑے مسائل کے حل کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ وزارت کی تجویز کردہ تمام لازمی حفاظتی تدابیر کے ساتھ اس کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں فاطمہ فرٹیلائزرز اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظامات کے تحت 30 ستمبر 2026ء تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے سے متعلق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے دانش سکولز اتھارٹی فنڈ کے لیے انڈومنٹ فریم ورک کے تحت تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو حکومتِ پاکستان کی ضمانت کی مدت میں توسیع سے متعلق اس اقدام پر ٹھوس پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے 30 ستمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے حکام ،وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔







