چین پاکستان کا مخلص دوست ہے، ہر آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا، قیصر احمد شیخ

وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے جس نے ہر آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس تعاون سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایمپیک سٹریٹیجیز کے چائنا ڈیسک کی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ سی …

اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے جس نے ہر آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس تعاون سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایمپیک سٹریٹیجیز کے چائنا ڈیسک کی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کو ماضی میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا تاہم موجودہ حکومت چین سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو بہتر ماحول اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

چائنا گلوبل پروفیشنل ٹیکنیکل سرٹیفکیشن کی چیئرپرسن گلمینہ بلال نے کہا کہ چین نئی نسل کی آئی ٹی، نئی توانائی، روبوٹکس، بائیومیڈیسن، ہائی اینڈ آلات، ایوی ایشن اور ایرو سپیس سمیت آٹھ سٹریٹجک شعبوں جبکہ کوانٹم ٹیکنالوجی، بائیو مینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن و فیوژن انرجی، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور 6G سمیت مستقبل کی صنعتوں پر توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان کو ان شعبوں کے ساتھ عالمی معیار کی تکنیکی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ایمپیک سٹریٹیجیز کے چائنا ڈیسک کے نئے پالیسی پیپر ’’انڈرسٹینڈنگ چائنا: چائنا کی اکانومی اینڈ انڈسٹریل پالیسی‘‘ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ پاکستان کو زیادہ معاشی فوائد کے حصول کے لیے چین کی بدلتی معاشی و صنعتی ترجیحات کے مطابق اپنی ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانا ہو گی۔

رپورٹ کی لانچنگ کی تقریب پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ تھے۔رپورٹ کے مطابق چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ 2026ء سے 2030ء تک صنعتی اور تکنیکی ترقی، پیداواری صلاحیت اور جدت پر مرکوز ہے جبکہ پاک چین اقتصادی تعاون کا پہلا عشرہ زیادہ تر انفراسٹرکچر اور فنانسنگ کے گرد گھومتا رہا۔ چین اب اس ماڈل سے آگے بڑھ چکا ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی اور چینی معیشت کی نئی سمت کے مطابق ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی نئی صنعتی پالیسی کا مرکزی تصور ’’نئی معیاری پیداواری قوتیں‘‘ ہے جس میں سستی مزدوری کے بجائے ٹیکنالوجی، جدت اور پیداواری صلاحیت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چین نے 2024ء میں دنیا بھر میں نصب صنعتی روبوٹس کا 54 فیصد، یعنی 2 لاکھ 95 ہزار روبوٹس نصب کیے جبکہ تحقیق و ترقی پر 2025ء میں 3.93 ٹریلین یوآن خرچ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی چین کو برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عدم توازن بدستور بڑھ رہا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں چین کو پاکستانی برآمدات تقریباً 10 فیصد اضافے کے ساتھ 2.67 ارب ڈالر رہیں جس کے بعد چین امریکا کے بعد پاکستانی مصنوعات کی دوسری بڑی منڈی بن گیا۔ دوسری جانب چین سے پاکستان کی درآمدات 14 فیصد بڑھ کر تقریباً 22.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یوں دوطرفہ تجارتی خسارہ تقریباً 19.53 ارب ڈالر رہا جو ایک سال میں تقریباً 2.4 ارب ڈالر بڑھا۔

مزید خبریں