پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کے جاری اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے جوہری اور تابکاری تحفظ اور جوہری سلامتی کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان کا آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز میں جوہری تحفظ و سلامتی کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
ویانا۔7ستمبر (اے پی پی):پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کے جاری اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے جوہری اور تابکاری تحفظ اور جوہری سلامتی کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
پیر کوپاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کسی بھی ملک میں جوہری تحفظ اور سلامتی کی ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بنیادی اصول جوہری تحفظ اور سلامتی سے متعلق آئی اے ای اے کی منصوبہ بندی اور سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جوہری تحفظ اور سلامتی پاکستان کے پُرامن جوہری پروگرام کے بنیادی اجزا ہیں اور ملک اس حوالے سے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے پاکستان میں جوہری تنصیبات کو پانچ دہائیوں سے محفوظ انداز میں چلانے کے ریکارڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے مضبوط داخلی جوہری تحفظ اور سلامتی کے نظام کی عکاسی کرتا ہے۔چیئرمین پی اے ای سی نے آئی اے ای اے کی معاونت سے دنیا بھر میں جوہری تحفظ اور سلامتی کے شعبوں میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کو سراہا۔
انہوں نے بالخصوص رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں میں ایجنسی کے مرکزی کردار اور مسلسل تعاون کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی میں ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور اس کے جائزے کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔اس حوالے سے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے عالمی سطح پر جوہری تحفظ کو مضبوط بنانے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں منعقدہ کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی کے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجلاس کے نتائج عالمی سطح پر جوہری تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے جوہری تحفظ اور سلامتی کے شعبوں میں پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان جاری تعاون کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 کے دوران پاکستانی ماہرین نے فلپائن میں آئی اے ای اے کے زیرِ انتظام ایک ہنگامی مشق اور چین میں انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس مشن میں حصہ لیا۔علاقائی سطح پر استعداد کار بڑھانے میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی، جو آئی اے ای اے کا کولیبریٹنگ سینٹر ہے، ایجنسی کے تعاون سے مختلف سرگرمیوں کی میزبانی کے ذریعے خطے کے رکن ممالک کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے پاکستان سینٹر آف ایکسی لینس فار نیوکلیئر سکیورٹی کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جو آئی اے ای اے کے ساتھ طے شدہ عملی انتظام کے تحت جوہری سلامتی کے شعبے میں رکن ممالک کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک علاقائی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔








