خیبر پختونخوا کی سینیٹ کی خالی نشست پر انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عرفان سلیم کی جانب سے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا
سینیٹ نشست کا انتخاب ملتوی کرنے کے خلاف درخواست، پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس

مزید خبریں
پشاور۔ 07 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا کی سینیٹ کی خالی نشست پر انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عرفان سلیم کی جانب سے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار عرفان سلیم کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے مراد سعید کو سزا سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی سینیٹ نشست خالی قرار دی تھی۔وکیل کے مطابق الیکشن کمیشن نے 23 اپریل کو خیبر پختونخوا کی خالی سینیٹ نشست پر انتخابات کا شیڈول جاری کیا، جس کے بعد درخواست گزار عرفان سلیم نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور وہ مذکورہ نشست پر سینیٹ الیکشن کے امیدوار ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بعد ازاں ایک رکن صوبائی اسمبلی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مراد سعید نے سینیٹ کا حلف نہیں اٹھایا، اس لیے نشست کو خالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق الیکشن کمیشن نے مذکورہ درخواست پر 21 اپریل کو سینیٹ انتخابات ملتوی کردئیے، جبکہ عرفان سلیم الیکشن کمیشن کے فیصلے اور 27 اگست کے نوٹیفکیشن سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 63، 64، 65 اور 255(3) کی غلط تشریح کی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 224(5) کے مطابق سینیٹ کی نشست خالی ہونے کی صورت میں اسے 30 دن کے اندر پر کرنا لازمی ہے۔وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 65 کے تحت جب تک منتخب رکن حلف نہیں اٹھاتا، وہ سینیٹ میں نہ بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی ووٹ دے سکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے اور بعد ازاں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔








