ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی معاونت سے برآمدی مالیات تک رسائی بڑھانے کے لیے اہم اقدامات متعارف

حکومتِ کی جانب سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ونمو کو فروغ دینے اور پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے عزم کے تحت قابلِ استطاعت قلیل مدتی اور طویل مدتی برآمدی مالیات رسائی بڑھانے کے لیے اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ ملک کی ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی اور ایک پالیسی ادارے کے طور پر ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگرم پاک ) حکومت کی ان کوششوں میں …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):حکومتِ کی جانب سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ونمو کو فروغ دینے اور پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے عزم کے تحت قابلِ استطاعت قلیل مدتی اور طویل مدتی برآمدی مالیات رسائی بڑھانے کے لیے اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ ملک کی ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی اور ایک پالیسی ادارے کے طور پر ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگرم پاک ) حکومت کی ان کوششوں میں معاونت کر رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے برآمدی فنانسنگ کی اہم اسکیموں کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ برآمد کنندگان کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں اور پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے،برآمد کنندگان کو ورکنگ کیپیٹل تک زیادہ رسائی فراہم کرنے کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کا حجم مالی سال 2026-27 کے لیے 1,000 ارب روپے سے بڑھا کر 1,500 ارب روپے کر دیا گیا ہے ،وزیراعظم کی ہدایت پر 300 ارب روپے کی ایک نمایاں رقم خصوصی طور پر چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار(ایس ایم ایز، زرعی ایس ایم ایز اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے مختص کی گئی ہے، اس کا مقصد ان کاروباروں کو ایکسپورٹ فنانس تک رسائی فراہم کرنا ہے جنہیں روایتی طور پر اس اسکیم سے محدود فائدہ حاصل ہوتا تھا اس اضافی رقم سے خصوصاً ایس ایم ایز، نئے کاروباروں اور ابھرتے ہوئے برآمد کنندگان کے لیےبرآمدی شعبے میں فنانسنگ تک رسائی میں اضافہ متوقع ہے ۔

ای ایف ایس کی اضافی حدیں شریک مالیاتی اداروں کو مختص کر دی گئی ہیں اور وہ اہل برآمد کنندگان کے لیے دستیاب ہیں۔ حکومت نے لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ فیسلیٹی بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 350 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے۔ اس کا مقصد طویل مدتی سرمایہ کاری اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے ،یہ سہولت برآمد کنندگان کو نئے پلانٹس اور مشینری میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد دے گی، جس میں مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ منصوبوں کی توسیع، جدید کاری اور تبدیلی کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جا سکے گی۔اس سہولت سے پاکستان کی زیادہ ماحول دوست اور پائیدار معیشت کی جانب منتقلی سے متعلق سرمایہ کاری میں بھی معاونت ملیگی اور برآمد کنندگان کو اپنے ماحولیاتی اور پائیداری کے معیار بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً ان مارکیٹوں جہاں ای ایس جی اور ماحولیاتی قوانین کی پابندی زیادہ اہم ہے، میں اپنی مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

قومی سطح کی ان اسٹریٹجک ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیموں کے انتظام کے ذریعے ایگزم پاک ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے تاکہ حکومت کے برآمدات پر مبنی ترقی کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس کے لیے ملک کے برآمد کنندگان کو ورکنگ کیپیٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی فنانسنگ تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے ان اقدامات کا مقصد پاکستانی کاروباروں کی صلاحیت مضبوط کرنا، نئے برآمد کنندگان اور ایس ایم ایز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا، سرمایہ کاری اور جدید کاری کو آسان بنانا اور بالآخر پاکستان کی برآمدات میں تنوع، مسابقت اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مزید آسان اور موثرثر طریقے سے ایکسپورٹ فنانس تک رسائی اور اس کے انتظام کے لیے ایگزم پاک نے اپنا ڈیجیٹل ای ایف ایس پورٹل بھی تیار کیا ہے۔

اس پورٹل کے ذریعے ایگزم اور مالیاتی اداروں کے درمیان مکمل طور پر ڈیجیٹل رابطہ اور کارروائی ممکن ہوگی۔ مختلف ترقیاتی مالیاتی اداروں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ پورٹل ایگزم پاک اور مالیاتی اداروں کے درمیان درخواست سے لے کر مکمل کارروائی تک ڈیجیٹل تعامل اور پروسیسنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے کارکردگی، شفافیت اور بلاتعطل سروس کی فراہمی بہتر ہوگی۔ ایگزم پاک حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک، پی ایف آئیز اور برآمد کنندگان سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے ایک مضبوط، زیادہ مسابقتی اور پائیدار برآمدی شعبہ تشکیل دینے کے عزم پر قائم ہے۔

 

مزید خبریں