وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی نوجوان کی نوکری فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، نوکریوں کی خرید و فروخت کے مصدقہ شواہد سامنے آئے تو کوئی متعلقہ وزیر اور نہ کوئی سیکرٹری بچے گا اور ملوث عناصر کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل ، حق روزگار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 10 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی نوجوان کی نوکری فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، نوکریوں کی خرید و فروخت کے مصدقہ شواہد سامنے آئے تو کوئی متعلقہ وزیر اور نہ کوئی سیکرٹری بچے گا اور ملوث عناصر کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی فزیکل و فنانشل پیش رفت، بھرتیوں کے عمل اور مختلف انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے حق روزگار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کے حوالے سے موصول ہونے والی بے ضابطگیوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مصدقہ شواہد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی فرد کا جرم ثابت ہوا تو وہ کسی صورت سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے روز اول ہی واضح کردیا تھا کہ بلوچستان میں کوئی نوکری نہیں بکے گی اور اس اصولی موقف پر صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری بلوچستان اور پوری حکومتی مشینری ایک پیج پر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ انہوں نے حکومتی امور میں کبھی کسی ذاتی مداخلت کو برداشت نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی فرد کو ذاتی تعلق یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر سرکاری امور پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ افسران پر انہیں مکمل اعتماد ہے، وہ باصلاحیت ہیں اور بلوچستان کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکرٹریز کی نیت اور مثبت کردار پر کوئی شک نہیں تاہم ماتحت اہلکاروں اور ریکروٹمنٹ کمیٹیوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، بلوچستان کے عوام اور پارلیمانی فورم پر کی گئی کمٹمنٹ اور ہمارے پختہ عزم کے تناظر میں کسی بھی سطح پر کوئی بے ضابطگی قطعی قابل برداشت نہیں، ہمیں سیکرٹریز کا احترام و عزت عزیز ہے اور سیکرٹریز کو بھی حکومتی پالیسیوں اور احکامات پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان تعلیم کے حصول کے بعد روزگار کے منتظر رہتے ہیں، ان کی نوکری فروخت ہونے دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے روز مرہ انتظامی امور اور بھرتیوں کے پورے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مبنی رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گریڈ پانچ سے بالائی تمام آسامیوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کی منظور شدہ پالیسی پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے اور ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کیے جائیں ۔ تمام متعلقہ محکمے ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات کریں اور اگر آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیسٹ کے انعقاد میں کسی بھی قسم کی معاونت درکار ہوئی تو چیف منسٹر سیکرٹریٹ مکمل تعاون فراہم کرے گا ۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ درجہ چہارم کی آسامیوں پر نہ اقربا پروری ہوگی اور نہ ہی ریکروٹمنٹ کمیٹی کا کوئی حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کریں اور کسی بھی قسم کے دبائو کو میرٹ اور شفافیت کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشینری میں بطور چیف پرنسپل ایڈوائزر انہوں نے ہمیشہ بہتر مشاورت اور گڈ گورننس کے قیام کے لیے معاونت فراہم کی ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامی افسران کے درمیان باہمی تعاون سے ہی حکومتی پالیسیوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی فزیکل اور فنانشل پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی کو صوبائی حکومت کے عملی اقدامات کا مظہر قرار دیا اور متعلقہ محکموں کو ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری امور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت، موثر نگرانی اور بہتر فیصلہ سازی کے لیے اہم ہے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میرٹوکریسی قائم کرکے ہی بلوچستان کے نوجوانوں کا ریاستی نظام پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔








