پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں گیٹس فائونڈیشن کی مسلسل معاونت لائق تحسین ہے، وفاقی وزیر خزانہ کی گیٹس فائونڈیشن کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں گیٹس فائونڈیشن کی مسلسل معاونت، مالی تعاون، تکنیکی مہارت اور علم کے تبادلے کو سراہا ہے

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں گیٹس فائونڈیشن کی مسلسل معاونت، مالی تعاون، تکنیکی مہارت اور علم کے تبادلے کو سراہا ہے ۔انہوں نے ان خیالات کااظہارجمعرات کویہاں گیٹس فائونڈیشن کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات میں کیا جس کی قیادت صنفی مساوات ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی کر رہی تھیں۔ وفد میں عالمی پالیسی و ایڈووکیسی ڈویژن کی عبوری صدر کلپنا کوچھر بھی شامل تھیں۔ وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ گیٹس فائونڈیشن کے مسلسل تعاون اور رابطے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ علم کے تبادلے، تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینا انتہائی مفید ثابت ہو گا ۔ کلپنا کوچھر نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں فائونڈیشن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی اورخاص طورپر انسانی وسائل، بچوں کی صحت، غذائیت، ماں کی صحت اور خواتین کی معاشی شمولیت کے شعبوں میں جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جنوبی خیبر پختونخوا میں جاری پروگرام کا بھی ذکر کیا جس کے تحت نقد مالی معاونت، غذائیت سے متعلق مدد، روزگار اور ہنرمندی کی تربیت اور خواتین کے لئے شہری سہولت مراکز تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ رواں سال اس پروگرام سے تقریبا ً ایک لاکھ 70 ہزار خواتین اور 4 لاکھ 50 ہزار بچے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے ملک بھر میں غذائیت سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا جن میں یونیسف کی لائیولی ہوڈ 2.0 سہولت کے ذریعے غذائی اشیا ء تک رسائی بہتر بنانے اور بچوں میں سٹنٹنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات شامل ہیں۔ڈاکٹر انیتا زیدی نے وزیر خزانہ کو فائونڈیشن کے زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق اقدامات اور صحت کے بہتر نتائج کے حصول کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ لمزاے آئی ہب صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر حمل اور زچگی کے دوران خواتین اور خاندانوں کے لئے ان کی ضروریات کے مطابق خصوصی حل تیار کرنے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کمزور یا محدود انٹرنیٹ رابطے والے علاقوں اور بنیادی اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے حل بھی اجاگر کئے جو مقامی زبانوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ ڈیجیٹل صحت کی سہولیات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ملاقات کے دوران آبادی میں اضافے اور اس کے ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، غربت اور لڑکیوں کی تعلیم پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے وفد کو وزیراعظم کی زیر صدارت قائم قومی آبادی کونسل کے بارے میں آگاہ کیا اور وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، خواتین کی تعلیم و بااختیاری، افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے علماء کرام اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے۔وزیرخزانہ نے ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اہمیت، نجکاری اور اخراجات میں اصلاحات کے حوالے سے حکومتی اقدامات پربھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ، زراعت اور دیگر کم سہولت یافتہ شعبوں کے لئے حکومت کے مالیات تک رسائی کے ایجنڈاپربھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، بہتر ڈیٹا ایکسچینج اور کاروباری نقد بہائو کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔محصولات میں اضافے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے قوانین کے نفاذ، سہولت کاری اور اعتماد کو بنیادی اہمیت کاحامل قرار دیتے ہوئے ٹیکس اسیسمنٹ اور آڈٹ کے عمل کو مزید شفاف اور موثر بنانے کے لئے ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کی ضرورت پر زور دیا۔گیٹس فائونڈیشن کے نمائندوں نے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے میں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے بہتر معلوماتی نظام، ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور کاروبار کے نقد بہاو کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کو اس سلسلے میں اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اور ڈیٹا پر مبنی حل چھوٹے کاروباروں اور ریٹیلرز کے لئے مالی وسائل تک رسائی کے راستوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سہولت کاری، شفافیت اور اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ملاقات میں زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے مواقع کابھی جائزہ لیاگیا ۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے نجی ایکوٹی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں نجی ایکوٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور پیداواری سرمایہ کاری کے لئے ملکی و غیر ملکی طویل مدتی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے حوالہ سے حکومت کی کوششوں سے وفد کو آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں گیٹس فائونڈیشن کی مسلسل معاونت، مالی تعاون، تکنیکی مہارت اور علم کے تبادلے کو سراہا۔ ڈاکٹر انیتا زیدی نے پاکستان کے لئے فائونڈیشن کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پرفریقین نے انسانی وسائل، صحت، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل جدت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ وفد میں انکلوسیو فنانشل سروسز کے سینئر پروگرام آفیسر سید علی محمود، صنفی مساوات کے شعبے میں لیڈرشپ انگیجمنٹ امپلی منٹیشن کی پروگرام آفیسر عائشہ سلمان، ڈویلپمنٹ پالیسی اینڈ فنانس کے سینئر پروگرام آفیسر عمار خان، گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کے سربراہ جمال خان، کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص الحسن، گروپ ہیڈ تیمور علی اور چیف ڈیجیٹل آفیسر شرجیل مرتضی شامل تھے ۔وزارت خزانہ کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔