اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ تخلیق اور جدت ترقی کے بنیادی محرکات ہیں اور کوئی ملک ان کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) آڈیٹوریم میں بین الاقوامی سالانہ ٹرانس یورو ایشیاءانفارمیشن نیٹ ورک ورکشاپ 2017ءسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ ورکشاپ 11 سے …
وزیر داخلہ احسن اقبال کا بین الاقوامی سالانہ ٹرانس یورو ایشیاءانفارمیشن نیٹ ورک ورکشاپ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ تخلیق اور جدت ترقی کے بنیادی محرکات ہیں اور کوئی ملک ان کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) آڈیٹوریم میں بین الاقوامی سالانہ ٹرانس یورو ایشیاءانفارمیشن نیٹ ورک ورکشاپ 2017ءسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ ورکشاپ 11 سے 15 دسمبر تک پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کے زیر اہتمام ایشیاءپیسفک ایڈوانسڈ نیٹ ورک کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے جس کا مقصد نیٹ ورک انجینئرز اور نیٹ ورک سیکورٹی سٹاف کی مہارت میں اضافہ کرنا ہے۔ ورکشاپ میں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے افراد شریک ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم بہت مسابقانہ دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمیں جدت کے حوالہ سے سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔ احسن اقبال جو وزیر برائے ترقی، منصوبہ و اصلاحات بھی ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جدت کی صدی ہے اور صرف وہی اقوام بہتر ترقی کر رہی ہیں جنہوں نے خود کو علم اور ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے آراستہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے معیارات بدل چکے ہیں اور اب کسی ملک کی ترقی چند چیزوں پر منحصر ہے، ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور اپنے معیار کو مسلسل بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ملک میں علم اور انفارمیشن کا انقلاب متعارف کرانے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں جدت کو بھی متعارف کرانا ہے۔








