ایف آئی اے سیالکوٹ سرکل نے انسانی زندگی سے مبینہ مجرمانہ غفلت اور رشوت ستانی کے سنگین مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے گیپکو کینٹ ڈویژن سیالکوٹ کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم کو لاہور سے گرفتار کرلیا
ایف آئی اے سیالکوٹ سرکل کی کارروائی، گیپکو ایکسین عبدالقیوم لاہور سے گرفتار

مزید خبریں
سیالکوٹ۔10ستمبر (اے پی پی):ایف آئی اے سیالکوٹ سرکل نے انسانی زندگی سے مبینہ مجرمانہ غفلت اور رشوت ستانی کے سنگین مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے گیپکو کینٹ ڈویژن سیالکوٹ کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالقیوم کو لاہور سے گرفتار کرلیا۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم عبدالقیوم ولد بشیر حسین کے خلاف ایف آئی آر نمبر 1/2026 مورخہ 12 جنوری 2026 تعزیرات پاکستان کی دفعہ 334 اور انسداد بدعنوانی قانون 1947 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ملزم کی ضمانت عدالت سے خارج ہونے کے بعد وہ روپوش ہوگیا تھا، جسے مسلسل کوششوں کے بعد لاہور سے گرفتار کیا گیا۔مقدمے کی تفصیلات کے مطابق کلووال، تحصیل سمبڑیال کے رہائشی محمد الیاس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے گوجرانوالہ کو درخواست دی تھی، جس میں گیپکو ہیڈ مرالہ سب ڈویژن کے اہلکاروں ایس ڈی او عبدالمتین ناصر، لائن مینوں شوکت علی اور ملک شفیق، لائن سپرنٹنڈنٹ ملک مسعود علی ناصر اور دیوا ٹاؤن کے مالک حسن مراد پر مبینہ ملی بھگت اور رشوت وصولی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔دیوا ٹاؤن کو مبینہ طور پر غیر قانونی بجلی کی فراہمی کے لیے 11 ہزار وولٹ کی انتہائی خطرناک ہائی ٹینشن تاریں بغیر حفاظتی انتظامات کے شکایت کنندہ کے گھر کی چھت کے اوپر سے گزار دی گئیں۔ بار بار خبردار کیے جانے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی۔نتیجتاً 7 مارچ 2025 کو شکایت کنندہ کا ساڑھے سات سالہ بیٹا محمد عثمان گھر کی چھت پر گیا، جہاں ہائی ٹینشن تاروں کے قریب جانے سے شدید دھماکہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر سی ایم ایچ کھاریاں منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے مختلف مراحل کے دوران بچے کے دونوں بازو مستقل طور پر کاٹنے پڑے۔انکوائری مکمل ہونے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے زون گوجرانوالہ کی ہدایت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ ایف آئی اے کے مطابق حسن مراد اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔








