بیجنگ، پاکستانی سفارتخانہ میں وادی سندھ کی قدیم مہروں کے رسم الخط پر تحقیق کی تقریبِ رونمائی،ماہرین نے شرکت کی

بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں "ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملنے والی قدیم مہروں کے رسم الخط کی علامات کا مطالعہ: وادیٔ سندھ کے رسم الخط کے ماخذ کی تلاش”(Study of Ancient Seal Script Symbols from Harappa and Mohenjo-daro: Exploration of the Indus Valley Script Origins)کے انگریزی ایڈیشن کی تقریبِ رونمائی ہوئی جس میں میں متعدد ماہرینِ تعلیم، محققین، میڈیا کے نمائندوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

بیجنگ ۔11ستمبر (اے پی پی):بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں "ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملنے والی قدیم مہروں کے رسم الخط کی علامات کا مطالعہ: وادیٔ سندھ کے رسم الخط کے ماخذ کی تلاش”(Study of Ancient Seal Script Symbols from Harappa and Mohenjo-daro: Exploration of the Indus Valley Script Origins)کے انگریزی ایڈیشن کی تقریبِ رونمائی ہوئی جس میں میں متعدد ماہرینِ تعلیم، محققین، میڈیا کے نمائندوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

انر منگولیا ہونڈر کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز کے صدر پروفیسر ژو یوشو اور ان کی ٹیم کی جانب سے تحریر کردہ اس مطالعے میں ہڑپہ اور موہنجو دڑو سے دریافت ہونے والی 401 نسبتاً مکمل مہروں کا جائزہ لیا گیا اور 132 انفرادی علامات کی تشریح پیش کی گئی ۔ یہ تحقیق ان علامات کا موازنہ قبل از تاریخ کے چین خاص طور پر ہونگ شان ثقافتی خطے سے وابستہ کتبوں، تصاویر اور ثقافتی روایات سے کرتی ہے اور موجودہ پاکستان اور چین کے خطوں کی قدیم تہذیبوں کے درمیان ممکنہ روابط کا جائزہ لیتی ہے۔پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے شرکا کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے پروفیسر ژو، ان کی تحقیقی ٹیم، مترجمین اور انر منگولیا ہونڈر کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز کو اس اشاعت میں ان کے کردار پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس مطالعے کو دونوں قدیم تہذیبوں کے درمیان ممکنہ تاریخی اور ثقافتی روابط پر تحقیق میں اہم پیش رفت قرار دیا۔یہ مطالعہ آباؤ اجداد کی معاشرت کی عکاسی، رسومات کی علامات و نذرانے، جانوروں کی تصاویر، پیدائش، غیب دانی ، گرج چمک اور آباؤ اجداد کی پوجا جیسے تصورات سے وابستہ علامات میں ممکنہ مماثلتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ایسی مماثلتیں حتمی نتائج فراہم نہیں کرتیں، تاہم یہ تحقیق قدیم برادریوں کے درمیان ممکنہ باہمی رابطے، خیالات کے تبادلے اور ثقافتی تصورات کے مشترکہ عناصر پر علمی تحقیق کے نئے راستے کھولتی ہے۔

تقریبِ رونمائی میں پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کی اہمیت اور دونوں ممالک کی قدیم تہذیبوں کے بارے میں فہم کو گہرا کرنے میں مشترکہ علمی کاوشوں کے کردار پر زور دیا گیا۔ یہ تحقیق اب انگریزی میں دستیاب ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے پاکستانی عوام کے ایک وسیع تر حلقے تک پہنچایا جا سکے۔اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی اور عوامی سطح کے تبادلوں کے لیے پروفیسر ژو یوشوکی دیرینہ خدمات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے پاک چین دوستی مضبوط بنانے اور ثقافتی و عوامی سطح کے تبادلوں کو فروغ دینے میں پروفیسر ژو یوشوکی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں اپنے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر ژو یوشو نے تحقیق اور اس کے اہم نتائج کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے تقریبِ رونمائی کی میزبانی کرنے پر سفارت خانۂ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور سول اعزاز دینے پر حکومتِ پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں تحقیق میں شامل مہروں کی نمائش، میڈیا کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن اور کتاب کے انگریزی ایڈیشن کا باقاعدہ اجرا بھی شامل تھا۔اس تقریبِ اجرا نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون اور ثقافتی مکالمے کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کیا اور دنیا کی دو عظیم قدیم ثقافتی روایات کے باہمی روابط پر تحقیق کے سلسلے کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔

مزید خبریں