پاکستان کی ترقی انسانی وسائل ، مضبوط اداروں اور موسمیاتی لچک میں اضافہ پر کی جانے والی سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔ یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) کی احتساب رپورٹ 2026 میں کہی گئی ۔
پاکستان نے روزگار کی فراہمی ، افراط زر پر کنٹرول ، سیاسی استحکام اور موسمیاتی لچک میں اضافہ کے حوالہ سے اہم عوامی ترجیحات میں نمایاں پیش رفت کی ہے،آئی سی ایم اے

مزید خبریں
اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان کی ترقی انسانی وسائل ، مضبوط اداروں اور موسمیاتی لچک میں اضافہ پر کی جانے والی سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔ یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) کی احتساب رپورٹ 2026 میں کہی گئی ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے روزگار کی فراہمی ، افراط زر پر کنٹرول ، سیاسی استحکام اور موسمیاتی لچک میں اضافہ کے حوالہ سے اہم عوامی ترجیحات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران قومی معیشت نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے جبکہ 25 ۔ 2024 مالی سال میں معاشی ترقی 3.18 فیصد رہی تھی۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کی قومی معیشت میں 0.52 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
مزید برآں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلہ میں مالیاتی خسارہ 2.6 فیصد کے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال میں 0.7 فیصد تک کم ہوا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں بھی 8.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئی سی ایم اے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں حسابات جاریہ بھی 72 ملین ڈالر سرپلس رہا ہے۔ رپورٹ میں یوتھ اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے حوالہ سے کئے گئے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت نے نوجوان طبقہ کے لیے کاروبار اور زرعی قرضہ جات کی مد میں 21 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
مزید برآں ڈیجیٹل یوتھ ہب اورنیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ کے اقدامات کے تحت بھی نوجوانوں کی ترقی اور بہبود پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اس حوالہ سے 7 مختلف اے آئی مراکز اور اے آئی سکیمز 2026 جیسے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔ آئی سی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 27 ۔ 2026 کے لئے موسمیاتی لچک میں اضافہ کے حوالہ سے 690 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں براہ راست اخراجات کے لئے 214 ارب روپے جبکہ گرین سبسڈیز کی مد میں 476 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
پاکستان نے دیگر مختلف ممالک کے ساتھ کاروباری رابطوں میں اضافہ اور اقتصادی تعاون کے حوالہ سے 1.22 ارب ڈالر کی مختلف معاہدے بھی کئے ہیں جن میں پاکستان چائنا بزنس کانفرنس کے دوران کئے گئے معاہدے ، متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے معاہدہ سمیت امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ کئے گئے معاہدے شامل ہیں۔
آئی سی ایم اے کے نائب صدر محمد یاسین نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی ترقی کا دارومدار انسانی وسائل کی ترقی ، ادارہ جاتی استحکام اور موسمیاتی لچک کے فروخ پر کی جانے والی سرمایہ کاری پرمنحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا مطلب حکومت کے منصوبوں (فریم ورکس) کی ٹھوس اور واضح نتائج میں تبدیلی ہے تاکہ ان سے شہریوں کو براہ راست فائدہ حاصل ہو سکے۔







