غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے قتل عام پر مبنی دو آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں کی تیار کردہ ایک نئی دستاویزی فلم وینس فلم فیسٹیول میں بے حد سراہا گیا اور اس کے لیےمسلسل 25 منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔
غزہ میں قتل عام پر مبنی اسرائیلی فلمسازوں کی دستاویزی فلم کے لیے وینس فلم فیسٹیول میں 25 منٹ تالیاں بجائی گئیں

مزید خبریں
وینس۔11ستمبر (اے پی پی):غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے قتل عام پر مبنی دو آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں کی تیار کردہ ایک نئی دستاویزی فلم وینس فلم فیسٹیول میں بے حد سراہا گیا اور اس کے لیےمسلسل 25 منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔
اے ایف پی کے مطابق تماشائیوں نے فلم کی نمائش کے بعد فلمسازوں یووال ابراہم اور ریچل سزور کے لیے مسلسل 25 منٹ تالیاں بجائیں جو وینس میں نیا ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ سال غزہ پر بنائی گئی ایک اور فلم پر 23 منٹ تالیاں بجائی گئی تھیں۔اپنی فلم ’نازا‘ میں ابراہم اور سزور نے 24 مختلف اسرائیلی فوجی یا انٹیلی جنس اہلکاروں کی گفتگو شامل کی جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ابراہم نے بتایا کہ ہم نے صرف یہ چاہا کہ فوجی اور افسران خود بتائیں کہ انہوں نے کیا کیا، مقصد بہت سادہ تھا، ہم زیادہ سے زیادہ تفصیل سے سننا چاہتے تھے کہ غزہ میں قتل کا نظام کیسے دکھتا اور کیسے چلتا تھا۔یہ 80 منٹ کی فلم دیکھنے والوں کو حیران کر گئی کیونکہ انٹرویو دینے والوں نے بتایا کہ انہیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی ’قتل کی فیکٹری‘ یا ’مہلک وڈیو گیم‘ میں کام کر رہے ہوں۔’نازا‘ کا نام اسرائیلی انٹیلی جنس کے اس اصطلاحی کوڈ سے لیا گیا ہے جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
فلم میگزین سکرین نے اسے انتہائی ضروری اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی قرار دیا جبکہ ہالی و ڈ رپورٹر نے لکھا کہ یہ اسرائیلی فوج کے خلاف غصہ، بے عزتی اور گہری نفرت کو ابھارتی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی بمباری میں تقریباً 73 ہزار پانچ سو فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جنہیں دنیا معتبر اعداد و شمار مانتی ہے۔ یہ حملے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے جن میں 12 سو سےزیادہ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
فلم ’نازا‘ میں شامل مرد و خواتین جن کی آوازیں اور چہرے ڈیجیٹل طور پر بدلے گئے، ایک اے آئی نظام ’لیوینڈر‘ کی تفصیلات بیان کرتے ہیں جو لوگوں کو قتل کے لیے شناخت کرنے میں استعمال ہوا۔لیوینڈرغزہ کی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی نگرانی سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کرتا تھا تاکہ فون کالز، حرکات اور روابط کی بنیاد پر اہداف منتخب کیے جا سکیں۔ایک انٹرویو دینے والے نے کہا کہ سسٹم کے پیرامیٹرز اتنے پیچیدہ ہیں کہ سمجھنا مشکل ہے۔
دیگر افراد نے گھروں کی منظم تباہی، جنگی و انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت کے عمومی ماحول کو بیان کیا۔ایک گواہ نے کہا کہ یہ بالکل وڈیو گیم کی طرح ہے کیونکہ سب کچھ دور سے کیا جاتا ہے۔تقریباً تین سالہ تحقیق کے نتیجے میں بننے والی فلم ’نازا‘ اس سال وینس فلم فیسٹیول میں مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ہے جو ہفتے کو اختتام پذیر ہوگا۔ابراہم نے بتایا کہ ہم میں سے جو اسرائیل اور فلسطین کے اندر تبدیلی کے لیے لڑ رہے ہیں ہمیں اس کی ضرورت ہے، جب آپ غزہ کی صورتحال پر کچھ نہیں کرتے تو آپ انسانی حقوق اور سیاسی حل کے حامیوں کو کمزور کر رہے ہیں ۔







