سی ٹی ڈی پشاور کی تھانہ ارمڑ کے ایک کمپاؤنڈ میں کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور ریجن نے شمشتو کیمپ کے قریب علاقہ تھانہ ارمڑ کے ایک کمپاؤنڈ میں اہم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

پشاور۔ 11 ستمبر (اے پی پی):کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور ریجن نے شمشتو کیمپ کے قریب علاقہ تھانہ ارمڑ کے ایک کمپاؤنڈ میں اہم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے مطابق ایس پی سی ٹی ڈی پشاور ریجن کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی کہ کالعدم تنظیم آئی ایس کے پی کے دہشت گرد شمشتو کیمپ کے قریب کابل انگلش لینگویج سینٹر علاقہ تھانہ ارمڑ میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہیں جہاں وہ حساس اداروں، امام بارگاہوں اور چرچز پر بم دھماکوں سمیت دیگر بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی کی ٹیمیں مذکورہ کمپاؤنڈ کے قریب پہنچیں تو جوانوں نے انتہائی محتاط اور حکمتِ عملی کے ساتھ کمپاؤنڈ کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا،کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوتے ہی دہشت گردوں نے جوانوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

سی ٹی ڈی جوانوں نے اپنی حفاظت کے لیے آڑ لیتے ہوئے حکمتِ عملی کے تحت جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دورانِ آپریشن دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے ڈرون کا بھی استعمال کیا گیا۔جائے وقوعہ سے شواہد محفوظ کرنے اور قانونی و تکنیکی کارروائی کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ اور فارنزک ٹیموں کو موقع پر طلب کیا گیا۔ بم ڈسپوزل یونٹ اور فارنزک ٹیموں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے ضروری قانونی و تکنیکی کارروائی مکمل کی اور دستیاب شواہد محفوظ کیے۔دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، چار پستول، دو ہینڈ گرینیڈ، پانچ میگزین، ایک خود ساختہ آئی ای ڈی اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے۔

ہلاک دہشت گردوں کی جامع تلاشی کے دوران ایک دہشت گرد کی جیب سے شناختی کارڈ بنام عمران ولد دلاور خان سکنہ ترخو کٹکوٹ تحصیل مامون ضلع باجوڑ جبکہ دوسرے دہشت گرد کی جیب سے شناختی کارڈ بنام شاہد اللہ ولد میراج سکنہ شیخ بابا چرتہ ضلع اپر مومند برآمد ہوا، دیگر ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ مذکورہ عمران عرف عبداللہ عرف بلال عرف ابو بکر پشاور سمیت دیگر اضلاع میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے کل 20 مقدمات میں ملوث اور سی ٹی ڈی کو مطلوب و اشتہاری دہشت گرد تھا۔ عمران عرف ابو بکر پولیس و سکیورٹی فورسز کے خلاف IED، VBIED، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

مزید برآں، مذکورہ دہشت گرد عمران عرف ابو بکر مولانا خانزیب اور سینیٹر ہدایت اللہ کی شہادت میں بھی ملوث تھا۔ مذکورہ دہشت گرد ریحانزیب کی شہادت میں بھی براہِ راست ملوث تھا ،اس نے دیگر دہشت گردوں کے ہمراہ ریحانزیب پر فائرنگ کی تھی۔ عمران عرف ابو بکر 6 فروری 2026 کو ترلائی اسلام آباد میں ہونے والے امام بارگاہ خودکش حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا اور اس کیس میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کو مطلوب اشتہاری دہشت گرد تھا۔

دہشتگرد عمران نے ترلائی امام بارگاہ خودکش حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی اور خودکش بمبار کو نوشہرہ سے ترلائی پہنچایا تھا جبکہ ہلاک دہشتگرد شاہد اللہ ولد میراج نے ترلائی امام بارگاہ خودکش حملے کے لیے ریکی اور ٹارگٹ کی نشاندہی کی تھی۔حکومت پاکستان نے مذکورہ دہشت گرد عمران عرف ابو بکر کی گرفتاری یا سراغ کی اطلاع پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر کررکھا تھا۔ اسی طرح مذکورہ دہشت گرد سال 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث تھا۔ واقعے کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی ٹیموں کے جوانوں کی ہمت، حوصلے اور بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے، صوبے میں امن و امان کے قیام اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مؤثر کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

مزید خبریں