فیڈرل بورڈ میں ڈسلیکسیا سے آگاہی کے لیے ایک روزہ سیشن کا انعقاد

فیڈرل بورڈ میں ڈسلیکسیا سے آگاہی کے لیے ایک روزہ سیشن کا انعقاد

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام ڈسلیکسیا سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک روزہ سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن کا مقصد تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کو ڈسلیکسیا کے حامل بچوں کی تعلیمی ضروریات، مشکلات اور موثر معاونت کے طریقوں سے آگاہ کرنا تھا۔ڈائریکٹر ٹیسٹ ڈویلپمنٹ اینڈ رجسٹریشن، مرزا علی نے معزز مہمانوں اور شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ڈسلیکسیا ذہانت یا صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ سیکھنے کا ایک مختلف انداز ہے جسے مناسب توجہ، معاونت اور حوصلہ افزائی کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔کنٹرولر ٹیسٹ ایڈمنسٹریشن اینڈ او ڈبلیو سی طاہرہ فاطمہ نے خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے فیڈرل بورڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی موجودہ امتحانی سہولیات اور معاون طریقہ کار سے شرکا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے امتحانی نظام کو مزید جامع، منصفانہ اور طلبہ دوست بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ کی جاری کاوشوں پر بھی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر حنا نور، اسسٹنٹ پروفیسر اور انچارج شعبہ خصوصی تعلیم، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ڈسلیکسیا کی جلد تشخیص (Early Identification) کی اہمیت واضح کی۔

انہوں نے بتایا کہ بروقت شناخت، والدین اور اساتذہ کی مناسب رہنمائی اور انفرادی تعلیمی معاونت کے ذریعے ایسے بچوں کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔خصوصی تعلیم کی ماہر اور سپیچ تھراپسٹ ڈاکٹر فرح رحمان نے جامع تدریسی طریقوں (Inclusive Classroom Practices)، شمولیتی تدریسی سرگرمیوں اور ڈسلیکسیا کے حامل بچوں کے لیے معاون تعلیمی ماحول کی تشکیل پر گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ کو مختلف عملی طریقوں سے آگاہ کیا جن کے ذریعے ایسے بچوں کی کلاس روم میں موثر شرکت، اعتماد اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سیشن کے دوران شرکا نے ڈسلیکسیا کی جلد پہچان، جامع کلاس روم طریقوں، شمولیتی سرگرمیوں اور بچوں کی انفرادی ضروریات کے مطابق تدریسی حکمت عملی اختیار کرنے کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا۔ سیشن کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ڈسلیکسیا کے حامل بچوں کو سمجھنے، قبول کرنے اور انہیں یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کے مابین موثر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔