انصاف تک رسائی تیز، عدالتی نظام کو موثر اور جدید بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے۔چیف جسٹس
انصاف تک رسائی تیز، عدالتی نظام کو موثر اور جدید بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے۔چیف جسٹس

مزید خبریں
اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے 62ویں اجلاس میں ادارہ جاتی استعداد کار مضبوط بنانے، انصاف تک رسائی تیز کرنے اور موثر و شفاف نظام انصاف یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ پاکستان کی عدالتوں کیلئے قومی متحدہ ای فائلنگ اور الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ نظام کی اصولی منظوری دے دی گئی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ میں منعقدہ اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے شرکت کی۔
سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک کو عالمی قانون کی حکمرانی کے اشاریے سے ہم آہنگ کرنے، قانون کی حکمرانی اور عدالتی اصلاحات ٹریکر پورٹل کو 15 مارچ 2027ء تک تمام عدالتی سطحوں پر مکمل فعال کرنے اور عدالتی اعدادوشمار کی بروقت، درست اور مربوط ترسیل کیلئے میڈیا و سٹریٹجک کمیونیکیشن سیل کو فوری طور پر فعال کرنے کے فیصلے کئے گئے۔کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات سے نمٹنے کیلئے ازالہ کا طریقہ کار اور مجوزہ کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر وزارت قانون و انصاف کو کارروائی جلد مکمل کرکے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس پاکستان کی زیرصدارت کمیٹی نے قومی متحدہ ای فائلنگ اور الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ نظام کو عدالتی شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی، شفافیت، رسائی اور عدالتی کارروائی کو مزید آسان بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
نظام کے یکساں ای فائلنگ فارم حتمی شکل دینے کیلئے تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز یا ان کے نامزد نمائندوں اور صوبائی و اسلام آباد بار کونسلز کے نامزد ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔نئے نظام کا ابتدائی تجرباتی نفاذ ہر صوبے اور اسلام آباد کے منتخب مقامات پر خاندانی مقدمات میں کیا جائے گا جس میں فیملی کورٹ، ضلعی عدالت، متعلقہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ شامل ہوں گے۔
کمیٹی نے قومی عدالتی تجزیاتی ڈیش بورڈ میں 17 ترجیحی مقدمات کی اقسام کے کامیاب انضمام کو بھی سراہا اور ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو اعدادوشمار کی مکمل اور درست فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی۔ چیف جسٹس صاحبان کو مقدمات کے فیصلوں، زیرالتواء مقدمات، بیک لاگ اور دیگر کارکردگی کے حوالے سے ماہانہ بریفنگ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے یکم ستمبر 2025ء سے 31 جولائی 2026ء کے دوران ٹائم بائونڈ مقدمات کے 14 لاکھ 67 ہزار 675 فیصلے کئے جانے پر ضلعی عدلیہ کی غیر معمولی کارکردگی کو سراہا۔
اس عرصے کے آغاز پر ایسے مقدمات کی زیرالتواء تعداد 12 لاکھ 27 ہزار 657 تھی۔کمیٹی نے ہائیکورٹس، ضلعی عدلیہ، ججز اور عدالتی عملے کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹائم بائونڈ مقدمات کے فیصلوں کا نظام برقرار رکھنے اور ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ماڈل فوجداری اور دیوانی عدالتوں کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
یکم ستمبر 2025ء سے 31 جولائی 2026ء تک ماڈل فوجداری عدالتوں نے مجموعی طور پر 91 ہزار 71 جبکہ ماڈل دیوانی عدالتوں نے 42 ہزار 386 مقدمات کے فیصلے کئے۔کمیٹی نے خواتین کیلئے سہولت مراکز کے مجوزہ ڈیزائن کے حوالے سے ہائیکورٹس کو اپنی ضروریات کے مطابق مزید کارروائی کی اجازت دی جبکہ اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں ججز کی گردش کی پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس میں ضلعی عدلیہ کے ججز اور عملے کیلئے طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی سروس کیلئے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کے معاملے پر بھی ہائیکورٹس کو بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کی طرز پر قانونی فریم ورک وضع کرنے کا عمل شروع کرنے کی اجازت دے دی۔








