ایف آئی اے امیگریشن ملتان نے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا

ایف آئی اے امیگریشن ملتان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے آذربائیجان اور سربیا کے راستے مغربی یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور دو مسافروں اور تین ایجنٹس و سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔

ملتان۔ 11 ستمبر (اے پی پی):ایف آئی اے امیگریشن ملتان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے آذربائیجان اور سربیا کے راستے مغربی یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور دو مسافروں اور تین ایجنٹس و سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار مسافروں کی شناخت مظہر اقبال اور نعیم عباس کے نام سے ہوئی جبکہ سہولت کاروں میں اعجاز ، سہیل اسلم اور سجاول شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کا تعلق گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ اور خانیوال سے بتایا گیا ہے۔حکام کے مطابق دونوں مسافر فلائٹ نمبر FZ-326 کے ذریعے دبئی کے راستے آذربائیجان روانہ ہو رہے تھے اور ان کے پاس آذربائیجان کے سیاحتی ویزے تھے۔ سیکنڈ لائن امیگریشن پر جانچ پڑتال کے دوران مسافر مقصدِ سفر اور ذرائع آمدن سے متعلق تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جس پر مزید تفتیش کی گئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں مسافروں نے آذربائیجان کو بطور ٹرانزٹ پوائنٹ استعمال کرتے ہوئے سربیا کے راستے مغربی یورپ منتقل ہونے اور وہاں غیر قانونی طور پر ملازمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ایف آئی اے نے مسافروں کی نشاندہی پر ایئرپورٹ کے باہر کارروائی کرتے ہوئے ان کے کزن سمیت تین سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق اعجاز نے مبینہ طور پر آذربائیجان کے ویزوں اور سفری انتظامات میں معاونت فراہم کی جبکہ سہیل اسلم نے دیگر افراد کے ہمراہ مسافروں کی ملتان ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس میں مبینہ طور پر معاونت کی۔ایف آئی اے کے مطابق موبائل فون ریکارڈ اور واٹس ایپ گفتگو سے سہولت کاروں کے کردار کے شواہد سامنے آئے جبکہ سہولت کار کے موبائل فون سے سربیا کے مشتبہ ویزے بھی برآمد کیے گئے۔حکام کے مطابق مبینہ ایجنٹس نے دونوں مسافروں سے یورپ منتقلی کے عوض فی کس 30 لاکھ روپے میں معاملات طے کیے تھے جبکہ دونوں مسافروں کی جانب سے طور پر 5،5 لاکھ روپے پہلے ہی ادا کیے جاچکے تھے۔ شواہد چھپانے کے لیے مسافروں کے موبائل فونز کا ڈیٹا مبینہ طور پر حذف کیا گیا۔ایف آئی اے نے گرفتار مسافروں اور مبینہ سہولت کاروں کے موبائل فونز سمیت دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے۔ پانچوں ملزمان کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اے ایچ ٹی سی ملتان کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔