سپریم کورٹ نے دودھ میں ملاوٹ اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ملزم غلام نبی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی
پاکستان کی حالیہ بین الاقوامی مصالحت کار کے طور پر ابھرتی ہوئی ساکھ کو دورس اصلاحات کے ذریعے تجارتی تنازعات کے حل تک بڑھایا جا سکتا ہے۔مقررین کا ’’اپری‘‘ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) نے ’’کیا پاکستان بین الاقوامی تنازعات کے حل کا مرکز بن سکتا ہے؟‘‘ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر سینئر فقہاء، وکلاء اور ثالثی کے ماہرین نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ آیا پاکستان بین الاقوامی ثالثی اور مصالحت (میڈی ایشن) کے لیے ایک قابل اعتماد عالمی ذریعہ بن سکتا ہے۔ آئی پی آر آئی کے اعلامیہ کے مطابق پینل نے مجموعی نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کے پاس یہ موقع حقیقی طور پر موجود ہے تاہم اسے حاصل کرنے کے لیے آنے والے تقریبا دس سالوں میں قانونی، ادارہ جاتی اور صلاحیت سازی کی مسلسل اصلاحات ناگزیر ہیں۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے آئی پی آر آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی تجارت بڑھ رہی ہے اور سی پیک جیسے منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری آ رہی ہے تاہم زیادہ تر تجارتی تنازعات اب بھی لندن، سنگاپور یا دبئی میں سنے جاتے ہیں۔ اس طرح پاکستان ثالثی کی خدمات کا صارف بنا ہوا ہے، فراہم کنندہ نہیں۔ اس سے نہ صرف لاکھوں پائونڈ یا ڈالر خرچ ہوتے ہیں بلکہ وقت اور اعتماد کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر بین الاقوامی ثالثی پر فریقین کا کم از کم دو سے تین ملین پائونڈ یا ڈالر خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ بین الاقوامی مصالحت کار کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کا ذکر کیا جس میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساکھ تجارتی تنازعات کے حل تک بڑھائی جا سکتی ہے۔متعدد مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کچھ بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان نیویارک کنونشن کا فریق ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک کے اندر دیئے گئے ایوارڈز دنیا بھر میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ عدالتوں نے غیر ملکی ثالثی ایوارڈز کے نفاذ کے حق میں واضح رویہ اپنایا ہے۔ پینل نے متعلقہ کیس لاء میں نمایاں اضافے کا ذکر کیا، دو سال پہلے 1940ء کے ایکٹ پر مبنی فریم ورک کے تحت صرف 56 رپورٹ شدہ فیصلے تھے جبکہ اب ثالثی کے فیصلے تقریباً 120 کی شرح سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان دنیا کے صرف سات ممالک میں سے ایک ملک ہے جہاں لازمی مصالحت کا نظام موجود ہے۔ مصالحت کے ذریعے پہلے ہی عوامی خزانے کی بڑی بچت ہوئی ہے جس میں آزاد پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایک ٹریلین روپے سے زائد کے تصفیے اور حال ہی میں 6.6 ارب ڈالر کے ریفائنری اپ گریڈیشن کے معاہدے شامل ہیں۔موازنے کے اعداد و شمار نے احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ مقررین نے بتایا کہ کینیا (2013ء)، روانڈا (2008ء) اور مصر (1978ء) میں قائم کردہ ثالثی مراکز کا کیس لوڈ اب بھی تقریباً مکمل طور پر مقامی ہے۔ مصر میں دہائیوں بعد بھی ثالثوں کی تقرریوں میں صرف تقریباً 10 فیصد غیر مصری تھے۔ افریقی پریکٹیشنرز کے 2025ء کے ایک سروے میں تقریباً 60 فیصد نے لندن کو ترجیحی نشست قرار دیا، 18 فیصد نے سنگاپور کو جبکہ کسی نے بھی افریقی نشست کا انتخاب نہیں کیا۔ سروے میں 56 فیصد سے زیادہ نے مضبوط نفاذ کے ریکارڈ اور 54 فیصد نے غیر جانبداری کو فیصلہ سازی کی نشست کی کشش کی وجہ بتایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتبار وقت کے ساتھ کمایا جاتا ہے۔ بحث میں پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ثالثوں کی تعداد کا بھی ذکر ہوا۔ دو سال پہلے صرف چھ سے آٹھ ثالث تھے جبکہ آج چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آربٹرز کے فیلو تقریباً 100 تک پہنچ چکے ہیں جبکہ سنگاپور میں یہ تعداد تقریباً 150، متحدہ عرب امارات میں 39 اور بھارت میں 42 ہے۔ واضح رہے کہ اب تین قوانین اب زیر غور ہیں جن میں سنگاپور کنونشن کے نفاذ کے لیے قانون سازی، یو این سی آئی ٹی آر اے ایل ماڈل لاء پر مبنی نیا ثالثی بل اور کمرشل کورٹ سے متعلق قانون سازی شامل ہے۔ سیمینار نے متفقہ رائے دی ہے کہ پاکستان واضح لاگت کے فوائد اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی حیثیت اور نیک نیتی کی مدد سے ایک بین الاقوامی مرکز بن سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے تقریباً ایک دہائی تک مربوط اور مسلسل کوشش درکار ہو گی








