اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبہ کی صورتحال بدل چکی ہے، 70 سال میں جو کام ہم نے کئے وہ پہلے نہیں ہوئے، بہتری کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، ملک اور قوم کے مفاد میں جو بھی بہتر ہوگا وہی کریں گے۔ ونڈ، سولر، سمال ہائیڈل، بائیو ماس …
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کا سینیٹ میں تحریک التواءپر بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبہ کی صورتحال بدل چکی ہے، 70 سال میں جو کام ہم نے کئے وہ پہلے نہیں ہوئے، بہتری کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، ملک اور قوم کے مفاد میں جو بھی بہتر ہوگا وہی کریں گے۔ ونڈ، سولر، سمال ہائیڈل، بائیو ماس اور بیگاس کے شعبوں میں مسابقتی بولی کے ذریعے ہی آگے بڑھیں گے، اپ فرنٹ ٹیرف کا خاتمہ ہو جائے گا۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کی طرف سے پاکستان کو آئی پی پیز کو ادائیگیاں کرنے سے متعلق تحریک التواءپر بحث سمیٹتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ آئی پی پیز کو 14 ارب روپے ادا کرنے کا کہا گیا ہے، یہ کہنا درست نہیں ہے کہ جھم پیر میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کئے جانے کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کروایا ہے۔ سینیٹ سے بھی یہ بل منظور ہو جائے تو اس سے صورتحال میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس بل کے تحت نئی نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی اور الیکٹرسٹی پلان کا اعلان کیا جائے گا، یہ پلان بھی اسی پالیسی کے تحت ہوگا جس کے تحت ہر سال ضرورت کے مطابق بجلی چاہے وہ سولر، قابل تجدید توانائی، ہائیڈل، نیوکلیئر، درآمدی کوئلے، تھر کے کوئلے اور ایل این جی سے حاصل ہو، سسٹم میں شامل ہوتی رہے گی۔








