چار روزہ کرکٹ سے فاسٹ باؤلرز کو اپنی باؤلنگ بہتر بنانے کا کافی موقع ملتا ہے، صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے،عاکف جاوید اورحارث رؤف

کنگز مین کے فاسٹ باؤلر عاکف جاوید اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے کہا ہے کہ چار روزہ کرکٹ سے فاسٹ باؤلرز کو اپنی باؤلنگ بہتر بنانے اور ردھم حاصل کرنے کا کافی موقع ملتا ہے تاہم طویل دورانیے کی کرکٹ میں صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے۔

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):کنگز مین کے فاسٹ باؤلر عاکف جاوید اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے کہا ہے کہ چار روزہ کرکٹ سے فاسٹ باؤلرز کو اپنی باؤلنگ بہتر بنانے اور ردھم حاصل کرنے کا کافی موقع ملتا ہے تاہم طویل دورانیے کی کرکٹ میں صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے۔

پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس کے پہلے راؤنڈ کے دوسرے اور تیسرے روز دونوں فاسٹ باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔ عاکف جاوید نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں پہلی مرتبہ ایک اننگز میں 5سے زائد وکٹیں حاصل کیں جبکہ حارث رؤف نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 5یا اس سے زائد وکٹیں لینے کا کارنامہ تیسری مرتبہ انجام دیا۔ پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عاکف جاوید نے کہا کہ چار روزہ کرکٹ سے باؤلرز کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے کیمپ میں ایشلے نوفکے نے نئی گیند کی گرپ بہتر بنانے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ جب وکٹ سے سیم اور سوئنگ نہیں مل رہی تھی تو انہوں نے شارٹ پچ باؤلنگ کا پلان بنایا جو مؤثر ثابت ہوا۔ عاکف جاوید نے کہا کہ وہ آئندہ ایشین گیمز میں پاکستان کے سکواڈ کا بھی حصہ ہوں گے اور اس موقع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ حارث رؤف نے کہا کہ وہ اپنے ردھم کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چار روزہ کرکٹ میں بطور فاسٹ باؤلر صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے اور اس فارمیٹ میں مسلسل باؤلنگ کرنے سے فاسٹ باؤلرز کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔