امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو نیا قانون نافذ کرنے سے روک دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے امریکا میں قیام کی مدت محدود کی جانی تھی اور انہیں مزید قیام کے لیے توسیع کی درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
غیرملکیوں کے ویزوں کی میعاد میں کمی، امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کا نیا قانون روک دیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔15ستمبر (اے پی پی):امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو نیا قانون نافذ کرنے سے روک دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے امریکا میں قیام کی مدت محدود کی جانی تھی اور انہیں مزید قیام کے لیے توسیع کی درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اردو نیوز کے مطابق گزشتہ روز بوسٹن میں ہونے والی سماعت کے موقع پر جج ایس ڈینس سیلر نے یونیورسٹیوں اور مختلف یونینز کے اتحاد کے حق میں فیصلہ دیا جو کہ محکمہ ہوم لینڈ کے نئے قانون کے نفاذ سے ایک روز قبل سامنے آیا ہے۔ سماعت کے موقع پر جج نے کہا کہ ڈی ایچ ایس نے یہ پالیسی انتہائی کمزور جواز کی بنیاد پر بنائی ہے۔ محکمے نے قومی سلامتی اور ویزا پروگرام میں دھوکہ دہی کی روک تھام کو پالیسی کی وجوہات قرار دیا تاہم مزید قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اس پالیسی سے متعلق خدشات یا ایسے متبادل طریقوں پر غور نہیں کیا گیا جو اس سے کم سخت ہوں۔ اس فیصلے کے بعد ڈی ایچ ایس سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم وہاں سے فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سابق ری پبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے مقرر کئے گئے جج ایس ڈینس سیلر نے فیصلے میں لکھا کہ اس نئے قانون سے تقریباً 50 سالہ پرانا نظام ہی بدل جائے گا جس کے تحت غیرملکی طلبہ کو ویزا تب تک ملتا ہے جب تک ان کی تعلیم جاری رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کی وجہ سے کروڑوں غیرملکی طلبہ اور محققین امریکا آئے جس سے سائنس، طب اور ٹیکنالوجی میں اہم تحقیقات ہوئیں اور امریکا کی معیشت کو بھی کافی فائدہ پہنچا۔ جج نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کا جولائی میں بنایا گیا قانون غیرملکی طلبہ، پروفیسرز اور صحافیوں کی تعداد کو کم کر دے گا۔
نئے قانون کے تحت غیرملکی طلبہ کے’’ایف‘‘ ویزے اور ثقافتی پروگرام کے تبادلے کے پروگرام کے لیے ملنے والے ویزے ’’جے‘‘ کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہو گی جبکہ صحافیوں کے ’’آئی‘‘ ویزے کی مدت زیادہ سے زیادہ 240 روز کی گئی تھی۔ اس وقت امریکا میں تقریباً 16 لاکھ افراد ایف ویزا رکھتے ہیں جبکہ 5 لاکھ کے پاس جے ویزا ہے، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ جیسی بڑی جامعات میں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیرملکی طلبہ کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ جج نے فیصلے کے موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر یہ قانون نافذ ہوا تو ایسی جامعات کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور طلبہ کی تعداد بھی کم ہو جائے گی۔ انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ اس قانون سے امریکی نظام تعلیم اور معیشت کو تباہ کن نقصان ہو سکتا ہے۔








