ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے مسائل کے حل کیلئے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، وفاقی وزیر برائے بحری امور

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ٹیکسٹائل برآمدات کی کلیئرنس، کارگو کے قیام کا دورانیہ کم کرنےکیلئے کسٹمز، بندرگاہی حکام، برآمد کنندگان اور شپنگ شعبے کے درمیان موثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ٹیکسٹائل برآمدات کی کلیئرنس، کارگو کے قیام کا دورانیہ کم کرنےکیلئے کسٹمز، بندرگاہی حکام، برآمد کنندگان اور شپنگ شعبے کے درمیان موثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بدھ کو وفاقی وزیر ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے جائزے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندوں، بندرگاہوں کے چیئرمین، کسٹمز حکام، متعلقہ محکموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں برآمد کنندگان نے کارگو کی کلیئرنس اور نقل و حرکت میں تاخیر کے مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بر آمدی کھیپ زیادہ دیر تک بندرگاہوں پر رکی رہنے سے برآمدات کی بروقت روانگی متاثر ہوتی ہے اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈیز) بروقت جمع کرانے کے ساتھ کارگو کی آمد سے قبل تمام ضروری دستاویزات مکمل کی جائیں تاکہ کلیئرنس کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا سکے اور کارگو کے قیام کا دورانیہ کم ہو۔ کسٹمز اور بندرگاہی حکام نے اجلاس کو کلیئرنس کے موجودہ طریقہ کار اور مختلف مراحل میں صرف ہونے والے وقت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں کسٹمز، بندرگاہی حکام، ٹرمینل آپریٹرز، تاجروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ اسکیننگ کیلئے منتخب کی جانے والی کھیپ کی موثر اور بروقت شیڈولنگ کی جائے تاکہ سکیورٹی اور ریگولیٹری تقاضے پورے کرتے ہوئے غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔

جنید انوار چوہدری نے کسٹمز حکام کو اسکیننگ کے عمل کا جائزہ لینے، تاخیر کی وجوہات کی نشاندہی کرنے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس عمل کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور پیشگی الیکٹرانک پراسیسنگ کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ کارگو کی آمد سے قبل یا فوری بعد کلیئرنس کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ڈیجیٹلائزیشن، پیشگی فائلنگ اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے ذریعے کارروائی کا وقت کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں برآمد کنندگان نے عالمی شپنگ روٹس میں رکاوٹوں، خصوصاً بحیرہ احمر کی صورتحال کے باعث ترسیلی اوقات میں اضافے کے مسائل بھی اٹھائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شپنگ روٹس میں تبدیلی اور بحری جہازوں کے طویل سفر کے باعث ترسیلی وقت بڑھا ہے، جس سے برآمدات کرنے والے شعبوں کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کیلئے فوری انتظامی اقدامات کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر شپنگ رابطہ کاری کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ برآمد کنندگان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے کی الگ کارروائی کے بجائے مربوط طریقہ کار کے تحت کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو برآمد کنندگان، کسٹمز، بندرگاہی حکام، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی)، پی ایس ڈبلیو اور شپنگ لائنز کے ساتھ مل کر کلیئرنس کا عمل تیز کرنے اور کارگو کے قیام و اسکیننگ میں تاخیر کم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ بندرگاہوں اور کسٹمز سے متعلق تاخیر کا براہِ راست اثر پاکستان کی برآمدی مسابقت پر پڑتا ہے، اس لیے ٹیکسٹائل برآمدی شعبے کے مسائل کا فوری اور عملی حل یقینی بنایا جائے۔