بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی،پاکستان کا اپنےخصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی اشتعال انگیزی پر شدید احتجاج

وزارتِ خارجہ نے بدھ کو بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو اسلام آباد میں طلب کیا اور 15 ستمبر 2026 کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زی) میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز کی انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ۔

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وزارتِ خارجہ نے بدھ کو بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو اسلام آباد میں طلب کیا اور 15 ستمبر 2026 کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زی) میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز کی انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جب پاک بحریہ اپنی دو سالہ مشق “سی اسپارک-26” کر رہی تھی، بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے خطرناک حد تک قریب جارحانہ مشقیں کیں جس کے نتیجے میں دونوں بحری جہازوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ یہ واقعہ بین الاقوامی قانون اور 1991 کے دو طرفہ معاہدے "فوجی مشقوں اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے قبل پیشگی اطلاع” کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔

بھارتی ناظم الامور سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو آگاہ کریں کہ پاکستان بھارت کی اس جارحانہ کارروائی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ بھارتی فریق پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دو طرفہ معاہدوں بالخصوص سمندر میں واقعات کی روک تھام سے متعلق معاہدوں کی سختی سے پابندی کرے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھارت کی وزارتِ خارجہ میں بھی باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

بیان کے مطابق پاکستان عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ ترک کرے اور ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں سے باز رہے جو جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں۔ یہ خطہ بھارت کی جانب سے تنازعہ اور عدم استحکام کی جانب مسلسل غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا یرغمال بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔